محمد سلیم  ، طارق بن زیاد کالونی  ساہیوال کے 33 سالہ رہائشی ہیں۔ 1996 میں ان کے والد کو دل کا عارضہ ہوگیا، جس کے باعث وہ اپنا کام چلانے کے قابل نہیں رہے اور خاندان کی مالی حالت نہائیت خراب ہو گئی۔سلیم اس وقت صرف بارہ برس کے تھے۔ گھر  میں سب سے بڑے  ہونے کے باعث انہیں خاندان کے اخراجات  اٹھانے کیلئے  قریبی دوکان پر چھوٹا موٹا کام کرنا پڑا۔ وہ دن کو کام کرتے اور شام کو پڑھائ۔  اسی طرح سلیم نے کام جاری رکھ کر گھر کے اخراجات اٹھائے اور ساتھ ساتھ بی اے کی تعلیم بھی مکمل کر لی۔ انہوں نے اتنا تجربہ حاصل کرلیا تھا کہ وہ اسٹیشنری کی اپنی ذاتی دوکان کھول سکتے تھے مگر سرمائے کی کمی کے باعث وہ  اپنا خواب  پورا نہ کر سکے۔ انہوں نے بینک سے مالی معاونت حاصل کرنے کا سوچا۔ انہوں نے متعدد بینکوں سے قرضہ کے حصول کیلئے درخواست دی مگر   قرض کے دستاویزی عمل، عملیاتی فیس اور دیگر اخراجات  ہمیشہ بہت زیادہ ہوجاتے۔ پھر انہوں نے موبی لنک مائکرو فائنانس بینک  کے بارے میں سنا  اور آسان ماہانہ اقساط پر قرض حاصل کرنے میں کامیاب  ہوگئے۔ اب وہ دوسری مرتبہ  100،000 روپئے کا قرض  لے چکے ہیں۔ ہر مرتبہ قرض  لینے پر وہ اپنی دوکان میں اضافہ کرتے گئے۔ دو سال کے عرصہ میں وہ اپنی دوکان میں اسٹیشنری، فوٹو اسٹیٹ اور  اور دیگر  اشیاء کا اضافہ کر چکے ہیں۔ ان کی روزانہ فروخت 1،000 سے بڑھ کر 5،000 تک پہنچ چکی ہے۔ 

اب وہ اپنے کاروبار کو مزید بڑھا کر اس میں موبائل فون  اور اس کے لوازمات کا اضافہ کرکے  اس کا نام تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ان کے گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکے۔
سرمایہ نہ ہونے کے باعث انہوں نے موبی لنک مائکرو فائنانس بینک سے قرض لیکر اپنے ذاتی کاروبار کا آغاز کیا۔ وہ  کم منافع پر اعلی ٰ معیاری  کی اسٹیشنری اشیاء   فروخت کرنے کے علاوہ اچھی دوکان داری اور  چند مخصوص دفتری استعمال کی اشیاء پر توجہ دیتے ہیں، جس کے باعث ان کی فروخت میں بہت اضافہ ہوا۔  ایک سال تک کاروبار کرنے کے بعد  ان کے پاس اتنا سرمایہ اور اعتماد آ چکا تھا کہ انہوں نے کھانے پینے کی اشیاء اور قسطوں پر فوٹو کاپی مشین اور فریج بھی حاصل کر لیا۔  وہ اپنی سرمایہ کاری پر اچھا منافع کما رہے تھے، جس کے باعث وہ اپنے گھر کے اخراجات پورے کر رہے تھے۔
انہوں نے اپنے خاندان کو بہتر میعارِ زندگی مہیاء کیا ۔ وہ پُر عزم ہیں اور کہتے ہیں،  "میں کبھی کامیابی کا خواب نہیں دیکھتا، بلکہ اس کیلئے جدو جہد کرتا ہوں"۔ بل گیٹس نے بالکل صحیح کہا ہے کہ :"اگر آپ غریب پیدا ہوئے تو اس میں آپ کا کوئ  قصور نہیں، لیکن اگر آپ غریب مرے تو اس میں یقیناً آپ کا اپنا قصور ہے"
انہوں نے نہ صرف اپنے  لئیے کامیاب زریعہِ معاش بنایا بلکہ دوسروں کیلئے بھی مشعلِ راہ بنے۔انہوں نے ایک شخص کو ملازمت کا موقع دے کر دوسروں کیلئے  روزگار کے مواقع پیدا کر دئیے۔ وہ اب بھی اپنے کاروبار کو وصعت دینے  میں مصروف ہیں۔
 

successful enterprenure

Success Stories

A story of becoming a successful person who join our banking system here are the sucess stories...

کامیابیکا سفر

ایم ایم بی ایل کے لاتعداد کامیاب صارفین میں سے چند کی کامیابی کا سفر ...
  • ایک حقیقی مثال
    (Dec-07-18)

    محمد سلیم  ، طارق بن زیاد کالونی  ساہیوال کے 33 سالہ رہائشی ہیں۔ 1996 میں ان کے والد کو دل کا عارضہ ہوگیا، جس کے…

    successful enterprenure
  • ایک کامیاب کاروباری۔
    (Dec-12-18)

    مداد علی گاؤں 26-ایس پی کی تحصیل اور ضلع پاکپٹن کے رہائشی ہیں. وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے بڑے…

    madad-ali
  • لکڑی کی دستکاری کا آرٹ
    (Dec-03-18)

    نور محمد رادی پور کے ایک چھوٹا سا گاؤں سے تعلق رکھتا ہے جو گدیجی کے نام سے نامزد ہوتا ہے اور ایک غریب خاندان سے تعلق…

    noor-muhammad
  • کاروباری توسیع کا ایک مثال
    (Dec-18-18)

    اسلم ایک شخص ہے جس پر خود اعتماد ہے. اس نے اپنی زندگی کے ذریعے اپنے راستے کی قیادت کی. وہ ایک گاؤں چاک Jhumra سے…

    successful ee
  • کامیاب کسان بننے کی ایک کہانی
    (Dec-07-18)

    محمد جاوید ایس / اے محمد اشرف چاک نمبر: 495 / ای بی. تحصیل برورا، ضلع گاڑی. وہ ایک بہت مشکل کام کرنے والا شخص ہے اور…

    successful farmer