واضح کردہ اصطلاحات

 

 

۱.

  

 

 جب تک کہ سیاق و سباق کی لئے کچھ دیگر درکار نہ ہو، یہاں استعمال کی کئی اصطلاحات کا مطلب درج ذیل ہوگا۔
"اکاؤنٹ"  کا مطلب روپے کا کوئی بھی بینک اکاؤنٹ تصور کیا جائے گا جو بینک کی کسی برانچ میں صارف کی جانب سے رکھا جائے گا۔
"اے ٹی ایم سروس"  کا مطلب بینکنگ کی وہ تمام مجاز خدمات تصور کی جائیں گی جنہیں صارف اے ٹی ایمز کے ذریعے حاصل کرسکتا ہے۔
"بینک"  کا مطلب موبی لینک مائیکرو فنانس بینک لمیٹڈ کی تما م یا کوئی بھی برانچ تصور کیا جائے گا۔ 
"بزنس ڈے" کا مطلب کوئی بھی ایسا دن تصور کیا جائے گا جس دن بینک کی متعلقہ برانچ بینکنگ کے کاروبار کے لئے کھلی ہوئی ہوگی۔
"صارف" کے مطلب میں وہ فرد، فرم، ادارہ، کمپنی یا کوئی دیگر ہستی شامل ہے جو بینک کے ساتھ ایک یا ایک سے زائد اکاونٹ رکھتا ہے۔
"روپے" کا مطلب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قانونی کرنسی تصور کیا جائے گا۔
"ایس بی پی" کا مطلب "اسٹیٹ بینک آف پاکستان" تصور کیا جائے گا۔
"سروسز"  کا مطلب وہ خدمات لیا جائے گا جو بینک، اپنی صوابدید پر، اکاونٹ کے سلسلے میں وقتاً فوقتاً پیش کرتا ہے۔
"اصطلاحات"  کا مطلب بینک کے اکاونٹس اور خدمات کے لئے وہ اصطلاحات اور شرائط لی جائیں گی جن میں وقتًاً فوقتاً ترمیم ہوتی رہے گی۔
"لین دین" کا مطلب کوئی بھی ایسا لین دین تصور کیا جائے گا جو اکاونٹ اور/یا اس پر فراہم کی جانے والی خدمات سے متعلق کسی صارف کی طرف سے کیا گیا ہوگا۔

۲.    اکاؤنٹس کھولنے اور چلانے کا عمل


۱.    بینک کے ساتھ اکاؤنٹ کھولنے کا خواہش مند صارف اکاؤنٹ کھولنے کے لئے اچھی طرح مکمل شدہ اکاؤنٹ کھولنے کا فارم جمع کروائے گا۔ صارف اکاؤنٹ کھولنے اور چلاتے رہنے کے لئے ایسی معلومات اور دستاویزات فراہم کرے گا جو بینک کو وقتاً فوقتاً درکار ہوں گے۔ 
۲.    اگر کسی وجہ سے بینک کو فراہم کی گئی نامکمل دستاویزات اور/ یا معلومات کی بنیاد پر کوئی اکاؤنٹ کھل جاتا ہے، تو بینک اپنی صوابدید پر اس اکاؤنٹ پر اس وقت تک کارروائی روک سکتا ہے جب تک کے ناموجود دستاویزات اور / یا معلومات بینک کے اطمینان کے مطابق فراہم نہیں کردی جاتیں۔ ان ضروریات کو پورا نہ کرنے کی صورت میں،بینک کے پاس یہ اختیار موجود ہوگا کہ وہ صارف کو پیشگی نوٹس دیتے ہوئے ایسے اکاؤنٹ کو بند کردے۔ اگر بینک کو بعد میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکاؤنٹ سے متعلق فراہم کی گئی معلومات یا دستاویزات جعلی یا جھوٹی ہیں، تو بینک اپنی صوابدید پر صارف کا اکاؤنٹ بند کرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں بینک کسی ایسی ذمہ داری یا نقصان کا ذمہ دار نہ ہوگا جو اکاؤنٹ بند کرنے کے نتیجے میں صارف کو برداشت کرنا پڑے گا۔

 

۳. بینک کسی بھی قسم کی کوئی بھی وجہ بتائے بغیر اکاؤنٹ کھولنے سے انکار کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
۴.    ہر اکاؤنٹ کو ایک مخصوص نمبر الاٹ کیا جائے گا، جس کا اکاؤنٹ کے سلسلے میں بینک کے ساتھ کی جانے والی تمام خط و کتابت میں حوالہ دیا جائے گا۔
۵    بینک کسی بھی وقت، جہاں بینک کو یہ شبہ ہو کہ کوئی فراڈ اورغیر قانونی حرکت عمل میں لائی گئی ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے کے وائی سی اور دیگر متعلقہ ضوابط اور / یا ہدایات کے مطابق، کسی نقصان کے بغیر اور صارف کو کوئی وجہ بتائے بغیر، کسی بھی ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کرسکتا ہے۔

 

 

 

۶.   بینک صارف کے اکاؤنٹ کی رازداری کو محفوظ رکھنے کے لئے ہر ممکن جدوجہد کرے گا۔ تاہم اس کے باوجود صارف یہ اعتراف کرتا ہے کہ بینک، منی لانڈرنگ کے خلاف قوانین و ضوابط اور بینک کی اندرونی پالیسیوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ صارف اکاؤنٹ، لین دین اور خدمات کے حوالے سے بینک کی جانب سے عمل درآمد کے مقاصد کے لئے درخواست کردہ معلومات بینک کو فراہم کرنے پر اتفاق کرتا ہے اور بینک کو یہ اختیار تفویض کرتا ہے کہ وہ اس کے اکاؤنٹ، صارف، خدمات یا ان کے ساتھ منسلک لین دین کے بارے میں قانون کے تحت درکار کوئی بھی معلومات پاکستان میں اور / یا بیرون ملک کسی بھی تحقیقاتی / سرکاری ادارے اور / یا کسی بھی ایسے فرد کو فراہم کردے جن کے بارے میں بینک یہ محسوس کرتا ہے کہ انہیں موجودہ قوانین و ضوابط کے تحت ایسا کرنے کا اختیار حاصل ہے اور ایسا کوئی انکشاف کسی عدالتی حکم اور / یا علاوہ ازیں بینک اور / یا اس کے ملازمین کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے ضروری ہے یا اس کے مطابق ہے۔

 

 

 

 

۳.    مشترکہ اکاؤنٹ

 

 

 

 

۱.   اگر اکاؤنٹ دو یا اس سے زائد افراد کے نام پر کھولا گیا ہے، تو اس کے کریڈٹ کا بیلنس کسی بھی وقت مشترکہ صارفین کی ملکیت ہوگا۔ ایسے افراد مشترکہ طور پر اور الگ الگ اکاؤنٹ اور/ یا اس کے سلسلے میں بینک کی جانب سے فراہم کردہ خدمات کے حوالے سے ہونے والے کسی یا تمام نقصانات کے ذمہ دار ہوں گے۔

 

 

 

۲.   بینک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جن افراد کے نام پر اکاؤنٹ کھولا گیا ہے، وہ ان میں سے زندہ بچ جانے والے فرد / افراد کو، یا ان کے حکم پر کسی فرد کو یا ایسے کسی زندہ بچ جانے والے فرد کے قانونی طور پر ذاتی نمائندے کو کوئی بھی رقوم، سیکورٹیز یا جائیداد ادا یا فراہم کردے، جو مشترکہ اکاؤنٹ میں کریڈٹ ہیں یا بینک کے پاس کسی ایک یا زیادہ زندہ بچ جانے والوں کے کریڈٹ پر موجود ہیں۔
۳.    یہ کہ کسی مشترکہ اکاؤنٹ کی صورت میں درج ذیل مزید شقوں کا اطلاق ہوگا۔
کسی ایک یا تمام صارفین کی موت واقع ہوتی ہے یا نہیں، بینک اس وقت تک دستخط کرنے کی مجاز اتھارٹی پر بھروسہ کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً کام کرتا رہے گا جس کا نام بینک کو دیا گیا ہے جب تک کہ ان کی جانب سے یا ان کی جانب سے کسی اور کی طرف سے کوئی تحریری نوٹس موصول نہیں ہوجاتا کہ اس اتھارٹی کو قانون کی عمل داری یا کسی دیگر وجہ سے ختم یا منسوخ کردیا گیا ہے۔ صارفین میں سے کسی کی موت کی صورت میں بھی، ایسے کسی مشترکہ اکاؤنٹ کے کریڈٹ میں جمع شدہ رقم ایسی کسی موت کی صورت میں زندہ بچ جانے والوں کی ملکیت ہوگی اور بینک کی جانب سے اسی انداز میں اس کی ادائیگی کی جاسکے گی۔

 

 

 

۴.    مشترکہ اکاؤنٹ کے دستخط کاروں کی جانب سے بینک کو متضاد ہدایات موصول ہونے کی صورت میں، بینک کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایسی ہدایات پر عمل نہ کرے، اور بینک کے لئے یہ امر ضروری قرار دیا جائے گا کہ مستقبل میں تمام ہدایات پر تمام دستخط کار مشترکہ طور پر دستخط کریں۔ بینک کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ صارف / صارفین کو نوٹس دئیے بغیر اس اکاؤنٹ کا آپریشن بند کردے۔

 

 

 

 

 

۴.    پی ایل ایس سیونگز / پی ایل ایس نوٹس / پی ایل ایس ڈیپازٹس

 

 

 

 

۱.    بینک کی نفع اور نقصان شیئرنگ اسکیم پاکستان میں بینک کے کاروبار کے نفع / نقصان تک محدود ہے کیوں کہ بینکار اور بینک اکیلے ہی صارف کے اکاؤنٹ کے کریڈٹ پر رقوم کے استعمال اور اس کی سرمایہ کاری کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

 

۲.   پی ایل ایس سیونگز، اور پی ایل ایس نوٹس اور پی ایل ایس ٹرم ڈیپازٹس اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئی رقوم کے کسی بھی استعمال، سرمایہ کاری، عزم، فیصلے یا انہیں مختص کرنے کا کام اس انداز اور اس بنیاد پر اور ایسے اصولوں کی روشنی میں کیا جائے گا جیسا کہ بینک، کلی طور پر اپنی صوابدید کے مطابق وقتاً فوقتاً فیصلہ کرے گا۔

 

 

۵.    صارف کی موت یا دیوالیہ پن

 

 


۱.    ایسی صورت میں جب بینک کو کسی انفرادی صارف کی موت کی اطلاع موصول ہوتی ہے، تو بینک مجاز حدود کی عدالت سے حاصل کئے گئے قابل عمل وارثت نامے، انتظامی خط یا مصدقہ وصیت نامے یا اس کے مساوی کوئی دستاویز پیش کئے بغیر، صارف کے کسی بھی اکاؤنٹ سے متعلق کسی بھی آپریشن یا رقم نکلوانے کی اجازت نہیں دے گا۔

 

 

۶.    اکاؤنٹس بند کرنا

 

 


۱.    بینک اپنی واحد صوابدید پر (اور صارف کو نوٹس دیتے ہوئے یا بغیر کسی نوٹس کے) کسی ایسے اکاؤنٹ کو، جو بینک کے اطمینان کے مطابق نہیں چلایا جارہا یا کسی بھی دیگر وجہ سے، صارف کے متعلقہ اکاؤنٹ کو بند کرنے کی وجہ بتائے بغیر بند کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بینک کسی بھی قسم کے کاروباری تعلق / تعلقات کو ختم کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتا ہے۔
۲.    اکاؤنٹ بند ہونے پر، اکاؤنٹ سے متعلق صارف کی جانب سے غیر استعمال شدہ کوئی بھی چیکس فوری طور پر بینک کو لازمی واپس کرنا ہوں گے۔ متبادل کے طور پر، تحریری طور پر بینک کے اطمینان کے مطابق یہ تصدیق کرنا لازم ہوگا کہ غیر استعمال شدہ چیکس اور / اے ٹی ایم کارڈ ضائع کئے جاچکے ہیں۔
۳.    بینک کسی بھی اکاؤنٹ کو کسی بھی قسم کی وجہ بتائے بغیر بند کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، بشمول اس بات، لیکن اس بات تک محدود نہیں، کہ جب کوئی اکاؤنٹ کم سے کم درکار بیلنس رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔
۴.    بینک کو ایسا کوئی اکاؤنٹ بند کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی جس کے لئے وہ صارف کو اس کے آخری، واقف پتے پر ایسے اکاؤنٹ میں موجود رقم کا ایک بینک ڈرافٹ/پے آرڈر، جو صارف کے حکم پر قابل ادائیگی ہوگا اور جس کی رقم اس وقت کے کریڈٹ بیلنس اور اس میں سے ایسی کٹوتی/کٹوتیوں کے بعد بنوا کر بجھوائے گا جو ایسی رقوم کے کریڈٹ بیلنس میں سے بینک کو قابل ادا ہوں گی۔

 

 

۷.    اکاؤنٹس سے رقوم نکلوانا

 

 


۱.    چیکس اور ادائیگی کی دیگر ہدایات پر دستخط صارف کی جانب سے ان نمونوں کے مطابق کئے جائیں گے جو بینک کو فراہم کئے گئے تھے اور جن میں صارف کی تصدیق کے ساتھ ان میں تبدیلیاں کی گئی تھیں۔
۲.    ناخواندہ صارفین اس وقت تک چیکس پر کاٹ پیٹ کرنے اور اس میں تبدیلی کے مجاز نہیں ہوں گے جب تک صارف اس کی تصدیق نہ کردے۔

 

۳.    بینک صارف کی جانب سے کسی چیک پر ادائیگی روکنے کی ہدایت کو ریکارڈ کرلے گا۔ بینک ان ہدایات کے لئے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا جس پر موزوں انداز میں عمل درآمد نہیں کیا گیا، تعمیل نہیں ہوسکی یا تاخیر ہوگئی، اور استفادہ کرنے والے نیک نیتی کی بنیاد پر ادائیگی کردی گئی۔ بینک کسی بھی ایسی ہدایات کے لئے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا جو بینک کی رائے میں غلط طور پر پہنچائی گئی ہیں۔
۴.    بینک وقتاً فوقتاً، اپنی واحد صوابدید پر اکاؤنٹس پر رقم نکلوانے کی ہفتہ وار (دیگر کسی مدت کے لئے) پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
۵.    صارف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ صرف اس متعلقہ برانچ سے ادائیگیاں حاصل کرے جہاں اس کا اکاؤنٹ رکھا گیا ہے، جب کہ کچھ مخصوص لین دین/ رقوم نکلوانے کے لئے بینک نے واضح طور پر پاکستان میں بینک کی دیگر برانچوں سے یہ سہولت دینے کی اجازت نہ دی  ہو ایسی کوئی اجازت ان خدمات سے مشروط ہوگی جن کی بینک وقتاً فوقتاً وضاحت کر سکتا ہے۔
۶.    کسی بھی نرم ڈیپازٹ سے اس کی تکمیل سے قبل رقم نکلوانے کا انحصار بینک کی واحد صوابدید پر ہے اور ایسے ٹرم ڈیپازٹ کے لئے منافع یا سود کا اطلاق اس مدت کے لئے ہوگا جو رقم نکلوانے سے قبل ٹرم ڈیپازٹ میں رکھا گیا تھا۔ ایسی رقم نکلوانے کی صورت میں بینک کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کر دہ پالیسی کے مطابق قبل از وقت ان کیشمنٹ/رقم نکلوانے کے ساتھ منسلک جرمانے یا اخراجات بھی لاگو ہوں گے جن سے صارف کو ڈیپازٹ ختم کرنے کے موقع پر آگاہ کیا جائے گا۔

 

 

 

 

۸.    تفصیلات کی تبدیلی

 

 

 


۱.    صارف اکاؤنٹ / اکاؤنٹس کی تفصیلات میں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر بینک کو آگاہ کرے گا۔ جب تک تفصیلات کی ایسی کوئی تبدیلی سے بینک کو تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا جائے گا اور بینک کی جانب سے اسے تسلیم نہیں کرلیا جائے گا، تو بینک کو صارف کی جانب سے پہلے سے موجود ہدایات پر عمل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

 

 

۹.    چیک بکس

 

 


۱.    کسی بھی اکاؤنٹ سے صرف بینک کی جانب سے فراہم کردہ چیک کے ذریعے صارف کی واضح تحریری درخواست پر ہی رقم نکلوائی جائے گی۔

 

۲.    بینک صرف متعلقہ صارف یا ایسے کسی دیگر فرد جسے صارف نے تحریری طور پر مجاز قرار دیا ہوگا، ایک چیک بک جاری کرے گا۔ 

 

 

 

۳.    صارف، بینک کی جانب سے جاری کردہ کسی بھی چیک بکس اور دیگر مالیاتی دستاویزات کو ہمہ وقت محفوظ طریقے اور حفاظت سے رکھنے کا عہد کرتا ہے۔صارف اس بات کو یقینی بنانے کے لئے پوری احتیاط برتے گا اور چوکس رہے گا کہ بینک کی جانب سے جاری کردہ تمام چیکس، چیک بکس اور مالی دستاویزات چوری نہ ہوں، ان میں کوئی رد و بدل نہ ہو یا کسی غیر مجاز مقصد کے لئے استعمال نہ ہوں۔ بینک کسی ایسے نقصان یا غیر ذمہ داری کے لئے، جو صارف کی مناسب دیکھ بھال میں ناکامی کی وجہ سے پیش آئے، ہرگز ذمہ دار نہ ہوگا۔ کسی بھی صارف کے چیک چوری ہوجانے یا گم ہوجانے یا جعل سازی کی صورت میں، صارف فوری طور پر بینک کوآگاہ کرے گا اور بینک کو ادائیگیاں روک دینے کی ہدایات جاری کرے گا۔ کسی بھی چیک بک کے گم ہوجانے پر بھی صارف کی جانب سے فوری طور پر بینک کو آگاہ کیا جائے گا۔ اگر صارف نے متعلقہ چیک پیش کئے جانے سے قبل چوری یا گم شدگی کی اطلاع دے دی ہے، تو وہ متعلقہ چیک کی ادائیگی کے نتیجے میں ہونے والے کسی نقصان یا خرابی کے لئے ذمہ دار ہوگا۔
۴.    چیک بکس صارف یا اس کے مجاز نمائندے کو جاری کی جائیں گی۔ اگر صارف/صارفین یا اس / کے نمائندے/ نمائندوں کی جانب سے پرنٹنگ کی تاریخ کے 60 دن کے اندر اندر چیک بک وصول نہ کی گئی تو  بینک کو وہ چیک بک ضائع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ ایسی صورت میں وصول کئے جانے والے چیک بک کے اخراجات/ دیگر سرکاری ٹیکسز واپس نہیں کئے جائیں گے۔ وصولی کے لئے بینک میں جمع کرائے گئے کسی چیک کی ادائیگی میں تاخیر یا گم شدگی کی صورت میں بینک اس مسئلے کے فوری حل کے لئے اپنی بہترین کوششوں کو استعمال کرے گا۔
۵.    کسی بھی اکاؤنٹ سے رقم صرف بینک کی جانب سے فراہم کردہ چیک پیش کرنے پر ہی کی جائے گی، جس پر بینک کے پاس درج دستخط کرنے والی اتھارٹیز کے دستخط کے نمونوں سے مطابقت رکھنے والے دستخط کئے گئے ہوں گے۔
۶.    اگر بینک کی رائے میں کوئی اکاؤنٹ اطمینان بخش طریقے سے نہیں چلایا گیا یا کسی بھی دیگر وجہ سے بینک کسی پیشگی نوٹس اور کوئی وجہ بتائے بغیر چیک بکس فراہم کرنے یا چیک بک کی سہولت واپس لینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

 

 

 

 

 

۱۰.    ڈیپازٹس

 

 

 


۱.    بینک مکمل طور پر صارف کے اپنے رسک پر صارف کو قابل ادا چیکس، ڈرافٹس اور دیگر دستاویزات قبول کرسکتا ہے۔ واضح نہ ہونے والی چیزیں چاہے وہ کریڈٹ ہوچکی ہوں وصول نہیں کی جاسکیں گے، اور اگر انہیں وصول کرنے کی اجازت دے بھی دی گئی، تو بینک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دستاویزات سے رقم وصول نہ ہونے کی صورت میں اکاؤنٹ کو ڈیبٹ کردے۔
۲.    صارف جمع کرنے والے بینک کی حیثیت سے بینک کو ہونے والے کسی بھی ایسے نقصان کی مکمل تلافی کرے گا جو صارف کی جانب سے جمع کرنے کے مقصد کے لئے پیش کئے گئے کسی چیک ، بل، نوٹ، ڈرافٹ، ڈیویڈنڈ وارنٹ یا کسی دیگر دستاویزات کی ضمانتی تصدیق یا ڈسچارج کی وجہ سے پیش آیا ہو۔
۳.    صارف کی جانب سے جمع کروائے گئے چیکس یا دیگر قابل حصول دستاویزات جنہیں رد کر دیا گیا ہے وہ پہلے سے انہیں وصول کرنے کا کوئی بندوبست موجود نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ صارف کے اپنے رسک اور اخراجات پر صارف کو خصوصی ڈاک یا مسینجر کی ذریعے سے اس پتے پر واپس بھیج دیئے جائیں گے جو آخری معلوم پتے کے طورپ پر بینک کے پاس موجود ہے۔
۴.    بینک مکمل طور پر صارف کے خود اپنے رسک پر جمع کرنے کے لئے صارف کو قابل ادائیگی یا اس کے لئے توثیق کردوہ چیکس، ڈرافٹس یا دیگر دستاویزات وصول کر سکتا ہے۔
۵.    چیکس کے ذریعے کئے گئے ڈیپازٹسکلیئرنس کے بعد ویلیوڈیٹ کئے جائیں گے۔ وہ تمام چیکس جو بینک میں جمع کروائے گئے انسٹرومنٹس کی وصولی کے لئے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔
۶    بینک جمع کروائے جانے والے کسی بھی ایسے چیکس کو قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہے جو کسی تیسرے فریق کے حکم پر قابل ادائیگی ہوں۔ صارف کو لازمی طور پر باقی ماندہ توثیقی عمل کی تصدیق کے لئے بینک کے ساتھ کوئی انتظام کرنا چاہیے۔ اکاؤنٹ میں جمع کروائے گئے تمام چیکس، آرڈرز، بلوں، نوٹس، قابل حصول دستاویزات اور رسیدوں اور دیگر دستاویزات کے حقیقی ہونے، درست ہونے اور ان پر تحریر کی گئی تمام توثیق کی مد کی درستگی کے بار ے میں صارف پوری ذمہ داری قبول کرتا ہے۔
۷    اکاؤنٹ کھولنے اور اکاؤنٹ کو قائم رکھنے کے لئے درکار کم سے کم ابتدائی ڈیپازٹ/ کم سے کم اوسط  بیلنس وقتاً فوقتاً بینک کی جانب سے طے اور واضح کیا جائے گا۔ صارف ہمہ وقت ایسا کم سے کم بیلنس رکھنے پر اتفاق کرتا ہے۔
۸   بینک ایسے کسی بھی اکاؤنٹ بشمول، لیکن اس تک محدود نہیں، ایسے اکاؤنٹ کو بند کرنے کی کوئی بھی وجہ بتائے بغیر اسے بند کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے جو کم سے کم درکار بیلنس رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔
۹.    بینک اپنے کنٹرول میں موجود رقوم کو کسی بھی ایسی ڈیپازٹری/ ڈیپازٹڑیز میں جمع کرواسکتا ہے جسے جو وقتاً فوقتاًاپنی واحد صوابدید میں منتخب ہوسکتا ہے.ا۔ 

 

۱۰.    سوائے وہاں جہاں صارف اور بینک کے درمیان اتفاق ہوچکا ہو، اکاؤنٹ/ اکاؤنٹس میں کریڈٹ کی جانے والی ہر ادائیگی اگر کسی ایسی کرنسی میں ہے جو ایسے اکاؤنٹ کی کرنسی کے علاوہ ہو، تو بینک اس کرنسی کو ایسے اکاؤنٹ/ اکاؤنٹس کو کریڈٹ کرنے سے قبل اپنی واحد صوابدید پر ایسے اکاؤنٹ/ اکاؤنٹس کی کرنسی میں اس وقت کے ایکسچینج ریٹ کے حساب سے تبدیل کرواسکے گا۔
۱۱.    ایسی صورت میں حصول کے لئے جمع کروائے گئی دستاویز/دستاویزات (جیسا کہ چیکس، ڈرافٹس وغیرہ) سے حاصل ہونے والی رقوم اکاؤنٹ میں کریڈٹ کر دی جاتی ہیں اور اس کے بعد اگر کسی بھی وجہ سے ادا نہیں ہوپاتیں یا بعد ازاں بغیر ادائیگی کے واپس کر دی جاتی ہیں چاہیے ان کے بارے میں پہلے ادا کرنے کا کہہ دیا گیا ہو تو ایس صورت میں صارف یہ عہد کرتا ہے کہ وہ ایسی دستاویزات کی رقم واپس/ دوبارہ بینک کے جانب سے ادا کردہ اخراجات کے ساتھ ادا کردے گا۔ صارف بینک کو یہ اختیار تفویض کرتا ہے کہ ایسی کوئی رقم اور اخراجات اس کے اکاؤنٹ/ اکاؤنٹس سے ڈیبٹ کرلے۔
۱۲.    صارف جمع کرنے والے بینک کی حیثیت سے بینک کو ہونے والے کسی بھی ایسے نقصان کی تلافی کرے گا جو بینک کو صارف کی جانب سے جمع کرنے کے مقصد کے لئے پیش کئے گئے کسی چیک، بل، نوٹ، ڈرافٹ، ڈیویڈنڈ وارنٹ یا کسی دیگر دستاویزات کی توثیق کی ضمانت اور/ یا ڈسچارج کی وجہ سے اور بینک کی جانب سے ہر اس کیس میں صارف کی ظاہر کی گئی درخواست پر ایسی کوئی ضمانت دینے پر برداشت کرنا پڑا ہو۔ صارف ایسی تمام دستاویزات کے حقیقی ہونے، درست ہونے اور ان پر تحریر کی گئی تمام توثیق کی مدت کی درستگی کے بارے میں ذمہ داری قبول کرتا ہے۔

 

 

 

۱۳.    ادا کردئیے گئے چیکس کے بارے میں بینک کی صوابدید ہوگی کہ پانچ (5) سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بینک انہیں ضائع کر دے۔

 

 

 

 

 

۱۱.    اخراجات

 

 

 


۱.    اخراجات بینک کے شیڈول آف چارجز کے مطابق لاگو کئے جائیں گے۔
۲.    بینک کے ساتھ کسی بھی لین دین سے پیدا ہونے والے یاحکومت پاکستان کو قابل ادائیگی کسی بھی اخراجات، فیس، کمیشن، سود، زکوٰۃ، ٹیکس، اسٹیمپ ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی، وغیرہ اکاؤنٹ سے ڈیبٹ کرنے کے لئے بینک کو صارف کی کسی پیشگی اجازت کی ضرورت نہ ہوگی۔
۳.   جہاں کہیں اطلاق ہوتا ہے، زکوٰۃ تشخیصی تاریخ پر ایسے اکاؤنٹس میں سے منہا کی جائے گی جن کا بیلنس مستثنیٰ کی گئی حد سے زائد ہوگا، جیسا کہ اس مخصوص زکوٰۃ کے سال کے لئے اعلان کیا گیا ہوگا۔ زکوٰۃ سے استثنیٰ کی صورت میں، مجوزہ فارمیٹ پر زکوٰۃ استثنیٰ کا اعلان اس وقت نافذ زکوٰۃ کو قوانین کے مطابق تشخیصی تاریخ سے کم از کم ایک (1) ماہ قبل بینک میں جمع کروانا ہوگا۔

 

۴.    صارف کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہمہ وقت اس پی ایل ایس یا کرنٹ اکاؤنٹ کا کم سے کم بیلنس قائم رکھے جو وقتاً فوقتاً بینک کی جانب سے طے کیا جائے گا۔اگر، کسی بھی وقت، اکاؤنٹ کا کریڈٹ بیلنس کم سے کم درکار سطح سے گر جاتا ہے تو صارف کو وقتاً فوقتاً بینک کی جانب سے طے شدہ اور چارجز کے شیڈول میں درج جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ اس جرمانے (اگر صارف کا اکاؤنٹ ایک (1) سال کے لئے زیر و بیلنس ظاہر کرتا ہے اور ساکت ہے، تو بینک کو یہ استحقاق حاصل ہوگا کہ وہ اس اکاؤنٹ کو بند کردے) کے حوالے سے بینک کو اکاؤنٹ ڈیبٹ کرنے کا استحقاق حاصل ہوگا۔

 

 

 

 

۱۲.    اکاؤنٹس پر آمدنی (سیونگز، ٹرم)

 

 

 


۱.    نفع اور نقصان شیئرنگ اکاؤنٹ کی صورت میں، اکاؤنٹ میں رقم اور اس پر منافع ان شرائط کے مطابق ہوگا۔
۲.    نفع اور نقصان شیئرنگ اکاؤنٹ  کے تحت کسی بھی آمدنی کا حساب لگانے کے طریقے کی نگرانی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کئے گئے موجودہ ضوابط/ہدایات کے تحت کی جاتی ہے۔
۳.    بینک کی جانب سے نفع/نقصان کی مختص کی جانے والی کوئی بھی رقم حتمی ہوگی اور تمام صارفین کے لئے واجب التعمیل ہوگی۔ اس کے تحت دعویٰ کرنے  والے کسی بھی صارف یا کسی بھی فرد کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ ایسے  کسی نفع/نقصان طے کرنے کی بنیاد پر کوئی سوال اٹھائے۔
۴.    جب تک کہ بصورت دیگر واضح نہ کیا گیاہو ، ڈپازٹ کی تکمیل کی تاریخ پر بینک کی قابل اطلاق شرح کی خودبخودتجدیدہو جائے گی۔تکمیل کی مدت سے ڈیپازٹ واپس لینے کا عمل بینک کی صوابدید پر ہو گااور اس کی اصل تاریخ سے یا تکمیل تجدید کی کسی بھی تاریخ سے کوئی بھی یا تمام سود یا منافع ضبط کر لیا جائے گا۔ بینک قبل از تکمیل ان کیشمنٹ کی صورت میں ختم نہ ہونے والی مدت کے لئے کوئی بھی جرمانہ اور/ یا دیگر منسلکہ لاگت کا اطلاق کرنے کا بھی حق رکھتا ہے۔
۵.    ایسی صورت میں جب کاروباری دن کے علاوہ کسی اور دن ڈیپازٹ کی مدت مکمل ہوتی ہے، تو بینک، ڈیپازٹ اور / یا آمدنی کی آدئیگی، یا جیسی بھی صورت ہو، اگلے کاروباری دن جب کہ بینک کاروبار کے لئے کھلا ہوگا، کر دے گا۔
۶.    ٹائم ڈیپازٹ کی جلد ان کیشمنٹ آمدنی کی کم کی گئی شرح اور دیگر اخراجات، قبل از وقت ان کیشمنٹ کے جرمانے اور ان منسلکہ اخراجات سے مشروط ہوں گے جو بینک نے وقتاً فوقتاً طے کیے ہوں گے اور ان سے صارف کو مطلع کیا گیا ہوگا۔

 

 

۱۳.    اکاؤنٹ گوشوارہ

 

 


۱.    بینک صارف کو درکار اکاؤنٹ گوشوارہ جاری کرے گا اور صارف کو بھیجئے گا۔ صارف متعلقہ اکاؤنٹ گوشوارہ جاری ہونے کے چودھ (14) دن کے اند ر اندر بینک کو کسی بھی غلطی، فرق اور/ یا خرابی کےبارے میں اطلاع دے گا، جس کے بعد اکاؤنٹ گوشوارہ کو حتمی تصور کیا جائے گا۔
۲.    اگر صارف درج بالا کے بارے میں بینک کو کوئی بھی اطلاع دینے میں ناکام رہتا ہے، تو پھر ایسے اکاؤنٹ گوشوارہ کو درست تصور کیا جائے گا اور اس میں درج بیلنس کو صارف کی جانب سے تصدیق شدہ تصور کیا جائے گا اور اسے تمام مقاصد کے لیے  جامع شہادت کے طور پر لیا جائے گا۔
۳.    مندرجات میں کسی قسم کی خرابی کی صورت میں، بینک اپنے حق کو استعمال کرتے ہوئےاس خرابی کو دور کرے گااور بعد ازاں ایسی کسی خرابی کے بارے  میں صارف کو مطلع کر دے گااور اس پر جمع ہونے والی کسی بھی مارک اپ (یا دیگر آمدن) کے ساتھ مل کر غلطی سے ادا کی گئی یا کریڈٹ کی گئی کوئی بھی رقم وصول/ ادا کرے گا۔ بینک کسی بھی ایسے نقصان کا ذمہ دار نہ ہوگا جو ایسی خرابیوں اور بعد ازاں ان کی واپسی کی وجہ سے پیدا ہوگا۔
۴.    بینک باقاعدہ وقفوں کے ساتھ صارف کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کی روشنی میں بینک کی جانب سے تیار کردہ بیلنس گوشوارہ بھیجے گا۔ یہ بیلنس گوشوارہ بینک کی جانب سے بیان کردہ تاریخ پر اکاؤنٹ میں رکھے گئے بیلنس کی تصدیق کرنے میں مدد دے گا۔ صارف ان تمام ہدایات پر عمل کرنے سے اتفاق کرتا ہے جو بینک اس سلسلے میں جاری کرے گا، بشمول اکاؤنٹ گوشوارہ جاری ہونے کے چودہ (45) دن کے اندر اندر کسی بھی فرق کے بارے میں بینک کو اطلاع دینے کی ذمہ داری، جس میں ناکامی کی صورت میں اکاؤنٹ گوشوارہ کو تمام مقاصد کے لئے درست تصور کیا جائے گا۔ بینک، نقول اور / یا اضافی اکاؤنٹ گوشوارہ کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قواعد و ضوابط اور بینک کے شیڈول آف چارجز کی روشنی میں لاگت وصول کرسکتا ہے۔
۵.   ایسے اکاؤنٹ کی صورت میں جن کے اکاؤنٹ گوشوارہ بلا ترسیل واپس آجاتے ہیں، تو ایسے اکاؤنٹ کو بینک 'ٹھکانہ نامعلوم' کا درجہ دیا جائے گا۔ بینک ایسے اکاؤنٹ کے ساتھ لاگو قوانین اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں نمٹا جائے گا۔

 

 

۱۴.    شناخت کی تصدیق

 

 


۱.    بینک ان افراد کو تصویری اکاؤنٹ کی سہولت پیش کرے گا جو ایسے اکاؤنٹ کو قائم رکھنے اور ان کے آپریشن کے لیے بینک کے اصولوں کو مطمئن کرتے ہیں ان میں وہ افراد شامل ہوں گے، مگر ان تک محدود نہیں ہوں گے، جو بصارت سے محروم ہیں، خواندگی اور/ یا بصورت دیگر انھیں اس لیے تصویری شناخت کی ضرورت ہے تاکہ بینک ایسی افراد کی موزوں شناخت کرنے کے قابل ہوسکے اور بینک کی KYC ضروریات کو مطمئن کرے۔ ایسے افراد کو بینک کو ایک معاوضہ بھی ادا کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے تاکہ بینک ان کے اکاؤنٹ کو چلانے کے قابل ہو سکے۔ تصویری اکاؤنٹ ہولڈرز کو قوانین، ضوابط اور وقتاً فوقتاً قابل اطلاق رہنے والی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات کے مطابق کارڈز بھی جاری کئے جا سکتے ہیں۔ فوٹو اکاؤنٹس رکھنے والے افراد کو بذاتِ خود بینک جا کر اپنے اکاؤنٹس کو آپریٹ کرنے کی ضرورت ہوگی، بشمول کوئی بھی دستاویزات اور/ یا کاغذات جو بینک کے کسی بھی افسر کے سامنے تیار کئے جائیں گے۔

 

 

۱۵.    بینک کی جانب سے نوٹسز

 

 


۱.    بینک کی جانب سے تمام خطو کتابت، نوٹسز یا مطالبات، سروس کو موثر کرنے کے کسی بھی دیگر موڈ سے تعصب برتے بغیر کئے جائیں گے، اور اگر صارف کو ذاتی طور پر پیش کئے جائیں یا دئیے جائیں یا ٹیلکس یا فیکس یا رجسٹرڈ ڈاک یا کورئیر کے ذریعے بھجوایا جائے گا تو بھجوانے کی تاریخ سے تین دن کے اندر اندر ترسیل کردہ اور وصول کردہ تصور کیا جائے گا۔ بشرطیکہ بینک متابدل کے طور پر یا مندرجہ بالا کے علاوہ، جیساکہ اجازت دی گئی ہے، انگریزی اور/یا اردو زبان کے اخبارات میں نوٹسز چھپواتے ہوئے انہیں نوٹس دے۔

 

 

۱۶.    نقصان کی تلافی اور ذمہ داری

 

 


۱.    بینک اکاؤنٹ کے خرابیوں سے پاک آپریشن اور صارفین کو خدمات کی فراہمی کے لئے اپنی بہترین کوششیں استعمال کرے گا۔ اس کے باوجود، صارف یہاں اس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ بینک کسی نقصان کی تلافی کا ذمہ دار نہ ہوگا اور اتفاق کرتا ہے کہ وہ کسی بھی یا تمام نقصانات، خرابیوں، ذمہ داریوں، ادائیگیوں اور فرائض اور ہونے والے، بھگتنے والے، جاری رہنے والے یا ادا کئے جانے والے یا بینک پر لاگو کئے جانے والے دیگر اخراجات اور درجہ بالا دوسری باتوں سے پیدا ہونے والے تمام اخراجات (بشمول بغیر کسی حد کے مناسب قانونی لاگت سمیت) کے لئے بینک اور اس کے متعلقہ ڈائریکٹرز، ملازمین اور نمائندہوں، ایجنٹوں اور ٹھیکیداروں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرائے گا:
(۱)    بینک کی جانب سے وقتاً فوقتاً صارف کی جانب سے جاری کی گئی واضح ہدایات، یا اے ٹی ایم کارڈ کے کسی غیر مجاز استعمال سمیت بینک کو  ادائیگی روکنا، ڈاک روکنا، کسی بھی دیگر ہدایات جاری کرنا اور /یا ان  پر عمل کرنا۔
(۲)    صارف یا کسی فریق کی جانب سے رقم، منتقلی، خدمات کے ذریعے کسی بھی پروڈکٹ کی ترسیل یا عدم ترسیل یا خدمات سے متعلق کسی دیگر معاملے کے بارے میں کوئی کلیم۔
(۳)    صارف کی جانب سے خدمات فراہم کرنے والے تیسرے فریق پر انحصار کرتے ہوئے کئے جانے والے کسی بھی لین دین میں کوئی بھی فرق،  خرابیوں یا تاخیر کے لئے کوئی کلیم۔
(۴)    بینک کی جانب سے کوئی بھی کارروائی جس میں اس پر بھروسہ کیا گیا ہو:
(a)    ہدایات جن کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہو کہ وہ نقل ہیں یا غلط ہیں:
(b)    ہدایات جو مبینہ طور پر صارف نے دی ہیں، جن کے بارے میں بعد میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ دھوکہ دہی تھی:
(۵)    کوئی بھی ایسے ٹیکسز یا دیگر محصولات جو بینک نے خدمات کے ذریعے یا ان کے مطابق ادائیگیوں پر ادا کرنے تھے۔
(۶)    کوئی بھی خرابی، غفلت یا ڈیفالٹ، عمل یا بھول چاہے وہ اس کے یا اس کے ملازمین یا کسی نمائندے، ذیلی ایجنٹ، شراکت دار بینک یا ان کے ملازمین سے ان شرائط، کسی ترمیم یا ہدایات سے ہٹ کر سرزد ہوئی ہو۔
(۷)    کسی بھی ایسی ہدایت کی وجہ سے جس پر اس وجہ سے عمل نہ کیا گیا ہو کہ وہ بینک کے کنٹرول سے باہر ہے۔
(۸)    کوئی بھی بالواسطہ، حادثاتی یا ضمنی نقصان یا منافع میں نقصان جو صارف کو کسی مواصلاتی یا الیکٹرانک ٹرانسمشن سہولت یا خدمات میں خلل واقع ہونے یا فیل ہونے کی وجہ سے برداشت کرنا پڑا ہو۔
(۹)    اکاؤنٹ یا خدمات کی غیر مجاز یا دھوکہ دہی سے رسائی یا بصورت دیگر ان شرائط کے سلسلے میں یا خدمات کی فراہمی میں بینک کی ناکامی کی وجہ سے پیدا ہونے والا کوئی نقصان۔
(۱۰)    PIN یا چیک بک کی گم شدگی، چوری، یا کسی اور کو معلوم ہوجانا۔
(۱۱)    ہدایات لاگوں کرنے میں عدم تعمیل یا تاخیر میں بینک کی ذمہ داری کسی بھی صورت میں ویلیوڈیٹیڈ کمی بیشی کی رقم سے تجاوز نہیں کرے گی، اگر یہ ناکامی یا تاخیر بینک سے منسوب کی گئی ہے۔
(۱۲)    کوئی بھی بالواسطہ، حادثاتی یا ضمنی نقصان یا منافع میں نقصان جو صارف کو ٹرمینل، کسی مواصلاتی یا الیکٹرانک ٹرانسمشن یا خدمات میں خلل واقع ہونے یا فیل ہونے کی وجہ سے برداشت کرنا پڑا ہو۔
(۱۳)    صارف کی جانب سے خدمات میں سے کسی کا بھی استعمال یا آپریشن۔
(۱۴)    اسٹیٹ بینک آف پاکستان یا کسی دیگر ریگولیٹری ادارے/ اداروں کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے رقوم کی عدم دستیابی بشمول رقم نکلوانے کے لئے  درخواست/ درخواستوں پر عمل کے لئے ضرعری زرمبادلہ فروخت کرنے سے انکار یا ناکامی، رقم نکلوانے یا اس کی تبدیلی، یا لازمی منتقلی پر پابندیاں، نافذ کئے جانے کی صورت میں یا بصورت دیگر کسی بھی انداز میں اکاؤنٹنگ کا متاثر ہونا۔ ان حالات میں، بینک کا صدر دفتر، دیگر برانچیں، ذیلی الحاق شدہ دفاتر پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی کہ وہ پاکستان میں  کسی بھی برانچوں کے ساتھ صارف کے ایسے اکاؤنٹ کے کریڈٹ میں موجود رقم ادا کریں۔

۲    بینک کو کوئی نوٹس ملنے یا کسی کارروائی میں فریق بنانے کی صورت میں، کسی تیسرے فریق (سوائے جب صارف اور بینک کسی تنازعے میں برائے راست ملوث ہوں) کے کہنے پر صارف، اکاؤنٹ/ اکاؤنٹس، خدمات اور/یا لین دین کی کا روائی یا قانونی چارہ جوئی میں ملوث کرنے پر صارف بینک کی جانب سے قانونی کارروائی کے لئے خرچ کی جانے والی یا برداشت کی جانے والی لاگت سمیت تمام لاگت اور اخراجات کے لئے بینک کو تمام زر تلافی ادا کرے گا اور بینک ایسی رقوم کو متعلقہ صارف کے کسی بھی اکاؤنٹ / اکاؤنٹس کو ڈیبٹ کرسکے گا۔

 

 

۱۷.    ترامیم

 

 


۱.    بینک وقتاً فوقتاً  ان شرائط پر نظر ثانی کر سکتا ہے یا ان میں سے کسی کو تبدیل کر سکتا ہے۔ ایسی کسی تبدیلیوں سے، ترامیم کو موثر ہونے سے تیس (30) دن قبل صارف کو مطلع کر دیا جائے گا۔ ایسی تبدیلیوں سے صارف کو چاہے ڈاک یا اخبار میں نوٹس یا بینک کے متعلقہ برانچ کی حدود کے اندر کسی نمایاں جگہ پر چسپاں کرتے ہوئے مطلع کرے گا۔ اگر صارف ان تبدیلیوں پر تحریری طور پر کوئی اعتراض نہیں کرتا تو انہیں منظور کردہ تصور کیا جائے گا۔ صارف کے اعتراضات بینک کو لازمی طور پر ترامیم کی اطلاع کی تاریخ سے ایک ماہ کے اندر اندر وصول ہوجانے چاہئیں اور اگر بینک اور صارف اس مسئلے کو مناسب وقت کے اندر اندر حل کرنے میں ناکام رہے ہیں، توصارف یا بینک، بینکنگ کا رشتہ ختم کرنے کے لئے آزاد ہوں گے۔
۲.    بینک وقتاً فوقتاً خدمات کے حوالے سے عائد لاگتوں میں سے کسی پر بھی، بینک کے چارجز شیڈول کے مطابق وقتاً فوقتاً نظرثانی اور / یا ان میں تبدیلیاں کرسکتا ہے۔ ایسی تبدیلیاں اس تاریخ سے موثر ہوں گی جو ایسی ردوبدل کے لئے بینک کی جانب سے مخصوص کی جائے گی۔ ایسی تبدیلیوں سے بینک، صارف کو چاہے ڈاک یا اخبار میں نوٹس یا اس مقصد کے لئے سات (7) دن کے لئے بینک کی متعلقہ برانچ کی حدود کے اندر کسی نمایاں جگہ پر چسپاں کرتے ہوئے مطلع کرے گا یا کوئی ایسا طریقہ عمل اختیار کرے گا جو وقتاً فوقتاً اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تجویز کیا گیا ہوگا۔

 

 

۱۸.    ادائیگیاں روکنے کے لئے ہدایات

 

 


۱.    بینک ادائیگی روکنے کی صرف ان ہدایات پر عمل کرے گا جن پر صارف کے دستخط ہوں گے اور جو بینک کو پہنچائی جائیں گی۔ ایسی صورت میں جب بینک کو ادائیگی روکنے کی ہدایات متعلقہ دستاویز کے کے ان کیش ہوجانے کے بعد موصول ہوتی ہیں تو بینک اس کے مطابق صارف کو مطلع کر دے گا اور ادائیگی روکنے کی متعلقہ ہدایات کے سلسلے میں اس پر مزید کوئی ذمہ داری نہ ہوگی۔ اگر متعلقہ دستاویزات کیش نہیں کروائی گئی، تو ادائیگی روکنے کی ہدایات وصول ہونے کی تاریخ سے 6 ماہ کے عرصے تک موثر رہیں گی۔ وہ وقت جب بینک نے درج بالا معلومات یا ہدایات وصول کی ہیں بینک کلی طور پر خود ہی طے کرے گا اور اس کی تصدیق کرے گا اور اس طے کردہ وقت کی صارف پابندی کرے گا اور اسے حتمی تصور کیا جائے گا۔

 


۱۹.    ساکت اکاؤنٹس

 


۱.    ایسے اکاؤنٹ کی صورت میں جو ایک سال تک استعمال نہیں کیا گیا، یعنی اس عرصے کے لئے ڈیبٹ کا کوئی لین دین نہیں ہوا؛ ایسے اکاؤنٹ کو غیر فعال / ساکت مارک کردیا جائے گا۔ کسی ساکت اکاؤنٹ میں اس وقت تک کام کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک کہ صارف کی جانب سے خصوصی درخواست نہیں کی جائے گی اور اس کے ساتھ صارف کا اصل کمپیوٹرائز قومی شناختی کارڈ یا بینک کی جانب سے وقتاً فوقتاً تجویز کردہ درکار کوئی اور موزوں دستاویز/ دستاویزات پیش نہیں کردی جاتیں۔

 

 

۲۰.    لاوارث ڈیپازٹس اور دستاویزات

 

 


۱.    ایسی صورت میں جب کوئی اکاؤنٹ ساکت اور لاوارث رہتا ہے اور /کوئی دستاویز دس (10) سال کے عرصے تک لاوارث رہتی ہے تو اکاؤنٹ اور / یا لاوارث دستاویز میں موجود کریڈٹ بیلنس، بینکنگ کمپنیز آرڈیننس، 1962 کی دفعہ 31 کی روشنی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کردیا جائے گا۔

 

 

۲۱.    متفرق

 

 


۱.    نگران قانون ان شرائط و ضوابط  کی نگرانی  کی جائے ی اور انہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور/یا وفاقی حکومت کیا کسی دیگر مقامی اتھارٹی یا ادارے کے تمام نوٹیفکیشنز، ہدایات، سرکلرز اور ضوابط سمیت پاکستان کے اہم اور باضابطہ قوانین کے زیر اثر رکھا جائے گا، ایسے وانین کے ساتھ تعمیل کے لئے درکار حد تک ان میں ردو بدل کیا جائے گا۔
۲.    بینک پر کوئی ذمہ داری نہیں، اس بات کی وضاحت کی جاتی ہے کہ بینک کی جانب سے ثابت کردہ انتہائی غیر ذمہ داری یا جان بوجھ کر کسی غلط روئیے کے سوا، بینک کسی بھی ہدایت پر عمل درآمد میں تاخیر یا عمل نہ کرنے پر کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ کسی بھی صورت میں درج بالا سے تعصب کے بغیر، بینک کی زیادہ سے زیادہ ذمہ داری منافع/مارک اپ یا ویلیو ڈیٹ ردوبدل یا متعلقہ ادائیگی یا منتقلی کی ہدایات تک محدود ہوگی۔
۳    اکاؤنٹ کھولنے کے فارم میں درج شرائط و ضوابط کی تشریح کے سلسلے میں بینک اور صارف کے درمیان کسی تنازعے کی صورت میں، معاملہ حل کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب ریفر کیا جائے گا۔

 

 

A/C side image

مصنوعات اور خدمات

چاہے آپ کے پاس چھوٹے کاروبار ہیں، اپنے قرضے کی ادائیگی یا اشتراک کرنا
زندگی کا تحفہ ہو. ہم سب کی دیکھ بھال کرتے ہیں ..