• تعریف

    درجِ ذیل الفاظ کے معنی  کی تفصیل بیان کی گئی ہے، ان الفاظ کے  یہی معنی  سمجھے جائیں گے، تاوقتیکہ ان کے کوئ اور معنی درکار ہوں

    "اکاؤنٹ" سے مراد پاکستانی روپئے میں کرنٹ یا بچت اکاؤنٹ ہوگا جو کارڈ کا حامل شخص کھولے گا بینک کے ساتھ اسے برقرار رکھے گا اور کارڈ کے زریعے رقم کا لین دین کرے گا۔ "اکاؤنٹ" سے مراد ایک سے زائد کرنٹ  یا/اور بچت اکاؤنٹ

    "اکاؤنٹ ہولڈر" سے مراد وہ شخص/اشخاص ہیں جو بینک کے ساتھ ایک  یا ایک سے زائد اکاؤنٹ برقرار رکھیں گا/گے۔

    "ایپلیکیشن" سے مراد اکاؤنٹ ہولڈر کی جانب سے کی جانے والی کوئ بھی درخواست، ہدائیت یا عرضی ہے جو سپلیمینٹری کارڈ کے حصول یا اسی قسم کے کسی دوسرے مقصد کیلئے وقتاً فوقتاً   بینک سے کی جاتی رہے گی۔

    اے ٹی ایم یا اے  ٹی ایم مشین سے مراد رقم شماری جو بینک کے زیر انتظام پاکستان میں یا باہر یا خود کار مشین ہیں جو بین الاقوامی نظام سے منسلک ہو یا / اور خود کار مشین جو بیرون ملک میں بینکوں اور مالیاتی اداروں میں نصب ہوں ، جہاں VISA  قابل قبول ہو ہے ۔

    بینک سے مراد وسیلہ مائیکرو فنانس بینک ایک  بینکاری کمپنی ہے جو پاکستان کے خواتین کے تحت فعال ہے ، جسکا منظور شدہ دفتر پلاٹ نمبر 3-A/2 ایف ایٹ مرکز اسلام آباد میں قائم ہے اور اس میں بینک کے نام اور فائدہ سے منصوب جان نشین بھی شامل ہیں ۔

    کارڈ سے مراد گولڈ یا سلور اور ویزا کلاسک کارڈ شامل ہے، جس پر ویزا کا نشان (Logo)  کندہ ہو گا اور جو مروجہ قوائد و ضوابط کے تحت جاری ہو گا۔ کارڈ کے معنی میں اضافی (Supplementary)  کارڈ بھی ہو گا  ،

    ( جب بھی جاری کیا جائے) جو بینک کی جانب سے اضافی کارڈ کے حامل کو شرائط و ضوابط کے تحت جاری کیا جائے گا ۔

    کارڈ ہولڈر سے مراد کارڈ کا حامل شخص ہے جو اکاونٹ ہولڈر ہونے کے باعث بینک میں اکاونٹ رکھتا ہو اور اسے کارڈ جاری کیا گیا ہو۔ اس میں اضافی کارڈ حامل بھی شامل ہے۔

    کارڈ ٹرانزیکشن سے مراد کارڈ ہولڈر کی جانب سے کارڈ کے ذریعے نقد رقم حاصل کرنا یا رقم کی آدئیگی کرنا ہے۔ جس میں بینک کی لاگو کردہ فیس بھی شامل ہو گی ، جس کے بعد کارڈ ٹرانزیکشن کی اصطلاح کا مناسب مطلب اخذ کیا جائیگا ۔

    لینکج اکاونٹ سے مراد وہ اکاونٹ ہے جو بینک اکاونٹ  ہولڈر  کی درخواست پر کارڈ کیساتھ منسلک کر دیتا ہے ، جو کارڈ کے ذریعے آدائیگی اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال کئے جا سکتے ہیں

     ای ایف ٹی سے مراد برقی ذرائع سے رقم منتقلی ہے ، جس میں ایسی تمام رقوم  منتقلیاں شامل ہیں، جو برقی ذرائع سے کی جائیگی ، ماسوائے بیوپاریوں  کو کی جانیوالی  آدائیگی (Merchant payment ) کے لنک نیٹ ورک سے مراد ہے ،  ون لنک نظام جو کارڈ کو قبول کرتا ہو اور یا دیگر ان تمام نظاموں کو قبول کرتا ہو ، بینک جن کا رکن ہے۔

    مرچنٹ سروس / ریٹیل آرٹلیٹ سے مراد کسی بھی خدمت یا فروخت کنندہ کا مقام فروخت ہے جو  پاکستان کسی بھی جگہ قائم  ہو اور ویزہ کارڈ کو قبول کرتا ہے ۔

    پاکستان سے مراد اسلامی جمہوری پاکستان ہے ، پن سے مراد ذاتی شناخت کا وہ مخصوص خفیہ نمبر ہے جو بینک بینک کی جانب سے کارڈ ہولڈر کو فراہم کیا جاتا ہے ،   اور جسے کارڈ ہولڈر  وقتا فوقتا منتخب کرتا  رہتا ہے اور جسے کارڈ ہولڈر اے ٹی ایم سے نقد رقم حاصل کرنے ، ان مقام  فروخت سے بلا دستخط خریداری کرنے جہاں پی او ایس ٹرمینل کے ذریعے پن کی شناخت کرنے کی سہولت موجود ہو کے علاوہ وقتا فوقتا اے ٹی ایم کے ذریعے دیگر سہولیات حاصل کرنے کیلئے استعمال کریں گے ۔

    "پی او ایس  ٹرمنل"سے مراد پیوپار کے مقام /  مقام فروخت پت فراہم  کردہ برقی ٹرمینل جسکے ذریعے کارڈ ہولڈر اپنے کارڈ سے اکاونٹ تک رابطہ قائم کر کے پاکستانی پیسے میں خریداری کی آدائیگی کر سکتا ہے ۔

    "سٹیمنٹ آف اکاونٹ "سے مراد وہ  مدتی تٖصیل ہے جو بینک کی جانب سے کارڈ ہولڈر کو فراہم کی جائیگی ، جسمیں دیگر تٖصیلات کے علاوہ اس  عرصہ کے  دوران کی جانیوالی رقوم منتقلیوں کی تفصیل موجود ہو گی ۔  "سروسز "سے مراد وہ خدمات ہے جو کارڈ کو بطور اے ٹی ایم کارڈ کے استعمال کر کے حاصل کی جائے یا بطور ڈیبٹ کارٖڈ آدائیگی  کرنے کے لئے استعمال کی جائیں ، انفرادی طور پر بینک کی جانب سے بذریعہ انٹرنیٹ بینکاری یا دیگر خدمات کی صورت میں وقتا فوقتا فراہم کی جائیگی ۔

    "سپلیمنٹری کارڈ "سے مراد سپلمینٹری کارڈ اور یا کوئی بھی ایسا کارڈ جو کارڈ ہولڈر کی درخواست پر سپلیمنٹری کارڈ ہولڈر کو جاری کیا جائے ، بشمول ان سپلیمنٹری کارڈوں کے جو اصل سپلیمنٹری کارڈ کی تجدید پر جاری کئے جایئنگے ، ان تمام شرائط ، ضوابط کے تحت اصل کارڈ ہولڈر ، سپلیمنٹری کارڈ  کے ذریعے کی جانیوالی تمام رقوم کی ادئیگیاں ، منتقلیوں کا ذمہ دار ہو گا ۔

    "سپلیمنٹری کارڈ ہولڈر" سے مراد وہ شخص ہے جسے اصل کارڈ ہولڈر کی درخواست پر بینک کی جانب سے سپلیمنٹری کارڈ جاری کیا جائیگا ، ضابطہ وصولیات (Schedule of charger) سے مراد وہ دستاویز ہے جسمیں کارڈ کے استعمال پر لاگو ہونے والی مروجہ فیس ، اخراجات اور وصولیات درج ہونگے ، جو شرائط ضوابط کا  حصہ تصور ہونگے ، اور جن میں بینک اپنی صوابدید کے مطابق تبدیلی اور رد و بدل کر سکتا ہے ۔

    ضابطہ وصولیات بینک  کی تمام شاخوں اور اس ویب سائٹ www.mobilinkbank.com.pk پر دستیاب ہے ، شرائط و ضوابط سے مراد وہ شرائط و ضوابط ہیں جنکے تحت کارڈ اور اسکے ذریعے فراہم کردہ حدمات کو استعمال میں لایا جائیگا ۔

    نیٹ بینکاری (Net banking) سے مراد انٹرنیٹ کے ذریعے بینکاری کی وہ سہولیات ہیں جو بینک اس ویب سائٹ  www.mobilinkbank.com.pk کے ذریعے کارڈ ہولڈر کو فراہم کرے گا ۔

  • کارڈ کا اجراء اور مدت

    2.1     کارڈ صرف نئے اکاونٹ کھولنے کی صورت میں جاری کیا جائیگا ، یا ایسے فرد کو جاری کیا جائے گا جسکا اکاونٹ پہلے سے موجود ہو ، اکاونٹ ہولڈر کی جانب سے کارڈ حصول کی درخواست کو بینک ایک ایسی پیشکش تصور کریگا  جس کے تحت اگر بہتر سمجھے تو اپنی صوابدید کے مطابق درخواست کو منظور کر سکتا ہے ، یہ درخواست اور پیشکش مروجہ قوائد و ضوابط کے مطابق ہو گی ۔

    2.2   کارڈ ہولڈر کی درخواست پر کارڈ ہولڈر اپنا کارڈ بینک سے وصول کر سکتا ہے ، یا بینک اپنی صوابدید پر بذریعہ کورئیر کارڈ  ہولڈر کو ارسال کر سکتا ہے ۔ یہ تمام کارروائی مروجہ بینک قوائد و ضوابط کے تحت عمل میں لائی جائیگی ۔

        2.3    کارڈ ہولڈر اپنا کارڈ متعلقہ شاخ سے خود وصول کر سکتا ہے ، یا بینک کے ریکارڈ میں موجود پتہ پر ارسال کیا جا سکتاہے ، کورئیر کے ذریعے  کے ذریعے ارسال کئے جانے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری کارڈ ہولڈر کی ہو گی ، تجدید شدہ اور متبادل کارڈ بینک میں موجود آخری پتہ پر ارسال کئے جایئنگے ، جسکی ذمہ کارڈ ہولڈر پر ہو گی ۔

    2.4کارڈ وصول کرنے کے فوراً بعد کارڈ پر  موجود مخصوص مقام پر دستخط کرنا ضروری ہے۔ کارڈ کا بعد ازاں استعمال کارڈ ہولڈر کے دستخط کی تصدیق اور مذکورہ شرائط و ضوابط کے مطابق ممکن ہوگا۔

    2.5۔ کارڈ کو کارآمد یا  فعال بنانے کیلئے  کارڈ ہولڈر کو بینک سے رابطہ کرنا ہوگا۔ بینک ،کارڈ ہولڈر کے کوائف کی تصدیق کرنے کے بعد کارڈ کو فعال کرے گا۔

    2.6۔ کارڈ کے کارآمد رہنے کی مدتِ میعاد کارڈ کے سامنے کی جانب درج ہوگی۔ کارڈ کی مدت پوری ہونے پر کارڈ ہولڈر کیلئے لازم ہے کہ وہ کارڈ کو درمیان میں   مقناطیسی پٹی کے مقام سے کاٹ کر  ضائع کردے۔  کارڈ کی میعاد  پوری ہونے پر بینک اپنی مکمل صوابدید پر نیا کارڈ جاری کر سکتا ہے ، ماسوائے اس صورت کہ کارڈ ہولڈر اس کے برعکس چاہے۔ بحرصورت ، کارڈ ہولڈر کو ان شرائط و ضوابطِ اور اس میں ہونی والی ترامیم  پر بدستور عمل کرتے رہنا ہوگا۔

    2.7۔ کارڈ بینک کی ملکیت رہے گا، یہی وجہ ہے کہ کارڈ ہولڈر  اس صورت میں کارڈ کا استعمال نہیں کرے گا، اگر اسے بینک ، ا مجاز افسر، بینک ملازم  ، معاون یا بینک کا کوئ ایجنٹ کسی بھی وجہ سے کارڈ کا استعمال بند کرنے کی تاکید کردے ۔ بینک ،  مجاز افسر، بینک ملازم  ، معاون یا بینک کا کوئ ایجنٹ کارڈ ہولڈر کو یہ تاکید بھی کرسکتا ہے کہ وہ اپنا کارڈ بینک کے حوالے کردے۔ ایسی ہدائیت ملنے پر کارڈ ہولڈر کو اپنا کارڈ فوراً واپس کرنا ہوگا۔

    2.8۔ بینک کی جانب سے کسی بھی وجہ سے کارڈ بند کر دیئے جانے کی صورت میں یا اس پر فراہم کردہ سہولیات واپس لے لئیے جانے یا ان سہولیات کو منسوخ کردئیے جانے کی صورت میں   کارڈ  ہولڈر کو فوراً اپنا ایک یا ایک سے زائد کارڈ بینک کو واپس کرنا ہوں گے ۔ ایسے کارڈ کی مدت ، کارڈ کی سہولیات بند  ہوجانے یا اس سے منسلک بینک اکاؤنٹ کو غیر فعال کر دئیے جانے والے روز سے منسوخ قرار پائیں گی ۔

  • کارڈ کا استعمال

    3.1۔ بینک ، صریحاً اپنی صوابدید پر کارڈ ہولڈر کو درجِ ذیل خدمات و سہولیات استعمال کرنے کی اجازت دے گا:

    i۔  بطور اے ٹی ایم کارڈ پاکستان بھر میں قائم اے ٹی ایم پر  استعمال کیلئے

    ii۔   پاکستان بھر میں   اشیاء کی خریداری ، مقامِ بیوپار /فروخت مراکز پر  خرید کردہ اشیاء کی قیمت کی ادائگی کیلئے (ڈیبٹ کارڈ)، جہاں جہاں پر ویزا قابلِ قبول ہے۔

    iii۔ بینک کی جانب سے کارڈ ہولڈر کو فراہم کی جانے والی کسی بھی اضافی سہولت کیلئے

    3.2۔ درخواست  کئیے جانے کی صورت میں بینک اگر چاہے تو اپنی صوابدید پر کسی ایسے شخص کو  منظوری کے بعدسپلیمینٹری کارڈ جاری کر سکتاہے جسے کارڈ ہولڈر نامزد کرے۔ تما م سپلیمنٹری کارڈ بشمول نو تجدید شدہ اور نئے جاری کردہ کارڈ متعلقہ بینک شاخ سے  ذاتی طور پر وصول کئیے جائیں گے یا پھر شق 2.4 کے تحت کارڈ ہولڈر کے  بینک ریکارڈ کے مطابق آخری معلوم پتہ پر ارسال کئیے جائیں گے ، جس کی تمام تر ذمہ داری کارڈ ہولڈر پر ہوگی۔سپلیمنٹری کارڈ ہولڈر کارڈ وصول کرتے ہی فوری طور پر دستخط والی جگہ پر دستخط کرے گا ، جبکہ کارڈ کا استعمال شرائط و ضوابط کو قبول کر لینے کی تصدیق  تصور ہوگا۔ سپلیمنٹری کارڈ جاری ہونے کی صورت میں اصل کارڈ ہولڈر جو کہ اکاؤنٹ ہولڈر بھی ہوگا، سپلیمنٹری کارڈ کے زریعے کی جانے والی رقم منتقلیوں، ادئگیوں، وصولیوں اور دیگر اخراجات کا کُلی طور پر ذمہ دار ہوگا یا/اور سپلیمنٹری کارڈ  کی ادائگیاں کرے گا۔

    3.4۔ صرف کارڈ ہولڈر  اپنے کارڈ کو استعمال کرنے کا مجاز ہے۔  کارڈ ہولڈر اپنا کارڈ کسی تیسرے شخص کے حوالے نہیں کرے گا اور ہر مکمن اقدامات کرے گا کہ  وہ کا رڈ  کو محفوظ مقام پر رکھے تاکہ کارڈ کے لاپتہ، گم یا چوری ہونے کا امکان نہ ہو۔کارڈ لاپتہ، گم یا چوری ہوجانے  یا کارڈ کسی تیسرے فرد کے ہاتھ میں چلے جانے کی صورت میں کارڈ ہولڈر فوری طور پر   تحریری شکل میں یا بذریہ ٹیلیفون بینک  کی ہیلپ لائن کو مطلع کرکے کارڈ کو غیر فعال کرنے  کی ہدائیت کرے گا تاکہ کارڈ کو مزید استعمال میں نہ لایا جاسکے۔ کارڈ کو غیر فعال کرنے اور مزید استعمال کو روکنے کی ہدائیت موصول  ہونے پر بینک اس کی تصدیق کرے گا  جو  کارڈ ہولڈر کیلئے ہتمی ہوگی ۔ بینک اپنی مکمل صوابدید پر یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ وہ زبانی یا برقی زرائع  اور بعد ازاں تحریری طور پر موصول ہونے والی ہدائیت پر عمل کرتے ہوئے کارڈ کو غیر فعال بنا کر اس کے مزید استعمال کو روک دے۔ تاہم، قطع نظر اس کے، اس  سلسلے میں بینک عملے کی جانب سے کسی بھی قسم کی  نظر اندازی  کی صورت میں پیدا ہونے والے نتائج کی تمام تر ذمہ داری کارڈ ہولڈر پر ہوگی۔

    3.4۔ کارڈ ہولڈر اپنے کارڈ کے زریعے اس سے منسلک اکاؤنٹ سے کی جانے والی تمام  رقم منتقلیوں اور اداگیوں کو قبول کرے گا، ماسوائے کارڈ کے لاپتہ، گم یا چوری ہوجانے پر بذریعہ ٹیلیفون بینک ہیلپ لائن کو زبانی اطلاع  اور بعد ازاں تحریری اطلاع کے زریعے کارڈ کو غیر فعال بنا دینے کی ہدائیت کرنے اور بینک  کی جانب سے اس ہدائیت کی تصدیق ہوجانے کے بعد ہونے والی منتقلیوں کے۔جس وقت بینک کو کارڈغیر فعال کرنے اور مزید استعمال کو روکنے کی ہدائیت موصول ہوگی، بینک اس کی تصدیق کرے گا  جو  کارڈ ہولڈر کیلئے ہتمی ہوگی۔بینک اپنی صوابدید پر یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ وہ زبانی یا برقی زرائع سے موصول ہونے والی ہدائیت اور اس کی تصدیق کیلئے بینک کی جانب سے کارڈ ہولڈر کو کی جانے والی کال اور تحریری گزارش  پر عمل کرتےہوئے کارڈ کو جلد از جلد غیر فعال کر دے۔ تاہم، قطع نظر اس کے، اس  سلسلے میں بینک عملے کی جانب سے کسی بھی قسم کی  نظر اندازی  کی صورت میں پیدا ہونے والے نتائج کی تمام تر ذمہ داری کارڈ ہولڈر پر ہوگی۔

    3.5۔ کارڈ ہولڈر ایک مرتبہ مکمل ہوجانے کے بعد اپنے کارڈ سے کی جانے والی رقم منتقلی   کو منسوخ نہیں کرسکتا، ماسوائے  ان شرائط و ضوابط  کے۔ کارڈ ہولڈر کارڈ کے زریعے ادائیگیوں کی تمام تر رسیدیں/سلپ محفوظ رکھے گا اور طلب کرنے پر بینک کو پیش کرے گا۔

    3.6۔ کارڈ ہولڈر متفق ہے اور بینک کو اجازت دیتا ہے کہ بینک کارڈ سے منسلک ایک یا ایک سے زائد اکاؤنٹ سے کارڈ کے زریعے سے کی جانے والی ادائگیوں کے علاوہ بینک اخراجات، فیس، کٹوتیاں، منہائیاں اور نقصانات وغیرہ وقتاً فوقتاً  وصول کر سکے۔

    3.7۔  بینک  ، فروخت کنندہ/مقام فروخت  سے  کارڈ کے زریعے کی جانے والی رقم منتقلی کی اطلاع موصول ہوتے ہی فوراً  اکاؤنٹ سے وصولی کر لے گا۔ کارڈ کے زریعے رقم منتقلی کے بعد متعلقہ اکاؤنٹ سے رقم وصولی میں تاخیر کی صورت میں بینک ذمہ دار ہوگا۔کارڈ ہولڈر ، کارڈ کے زریعے کی جانے رقم منتقلیوں کی اپنے بینک اکاؤنٹ سے ادائگی کرنے کا پابند ہوگا۔ یہ پابندی کارڈ سے منسلک اکاؤنٹ بند کردئیے جانے کے بعد بھی قائم رہے گی۔

    3.8۔ اگر بیوپاری/ فروخت کنندہ  کارڈ کے زریعے کی جانے والی ادائگی کی رقم واپس کرتا ہے تو بینک بیوپاری/فروخت کنندہ سےمکمل  ہدائیات موصول ہونے کے بعد  یہ رقم متعلقہ اکاؤنٹ میں جمع کردے گا۔   اس حوالے سے بیوپاری/فروخت کنندہ کی جانب سے دیر سے ہدائیات موصول ہونے کے باعث  رقم کی واپسی میں ہونے والی تاخیر کا بینک ذمہ دار نہیں ہوگا۔

    3.9۔ کارڈ ہولڈر اپنا کارڈ استعمال کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کارڈ سے منسلک اکاؤنٹ میں وافر رقم موجود ہو۔ اگر کسی بھی وجہ سے کارڈ  یا سپلیمنٹری کارڈ ہولڈر کارڈ سے منسلک اکاؤنٹ سے زائد رقم استعمال کرے گا   تو کارڈ ہولڈر کی جانب سے بینک کو یہ اجازت ہوگی کہ وہ مارک اپ یا/اور خدماتی اخراجات  ، بینک کے وقتاً فوقتاً لاگو کردہ  ضابطہِ وصولیات کے مطابق منہا کر سکے۔کارڈ ہولڈر فوری طور پر زائد رقم ادا کرے گا۔بینک کسی وقت، بغیر کسی نوٹس کے کارڈ کو منسوخ کرنے  اور کارڈ کے ذمہ زائد واجب الادا رقم  کا بلا تعصب اپنے جائز قانونی حق کے مطابق تقاضا کرنے کا مجاز ہے  اور جس میں زائد حاصل کی گئی رقم، مارک اپ اور اٹھنے والے دیگر نقصانات  شامل ہوں گے۔

    3.10۔ بیوپاری/فروخت کنندہ  یا اے ٹی ایم کی جانب سے کارڈ قبول نہ کئیے جانے کی صورت میں ہونے والے نقصان کا بینک ذمہ دار نہیں ہوگا۔

    3.11۔  اے ٹی ایم کی اسکرین پر نظر آنے والی یا رقم منتقلی کی رسید/سلپ پر درج رقم کو کسی بھی طرح سے کارڈ ہولڈر کے اکاؤنٹ میں موجود درست اصل رقم  تصور  نہیں کیا جائے گا۔  صرف وہ تمام رقم منتقلیاں درست شمار کی جائیں گی جو وقتاً فوتاً بینک کی جانب سے جاری کردہ اکاؤنٹ کی تفصیل (اسٹیٹمنٹ) کی صورت میں  مہیاء کی جائیں گی اور بینک کے ریکارڈ میں موجود ہوں گی۔

    3.12 ۔ کارڈ ہولڈر  اپنے کارڈ کے زریعے کی جانے والی تمام تر رقم منتقلیوں کی مکمل ذمہ داری اٹھائے گا ، خواہ یہ منتقلیاں اس  کے علم اور مرضی سے ہوں یا  اس کے علم میں لائے  بغیر اس کی مرضی کے بغیر کی گئی ہوں۔کارڈ ہولڈر بینک کی جانب سے فراہم کردہ رقم منتقلیوں کی  تفصیلات کو  ہتمی طور پر قبول کرے گا جو برقی یا دیگر زرائع سے فراہم  کی گئی ہوں۔

    3.13۔بینک یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت، بلا کسی پیشگی اطلاع کے ، کسی بھی عرصہ کیلئے کارڈ ہولڈر کے اے ٹی ایم  سے رقم حاصل کرنے کی کُل حد  میں اضافہ یا کمی کر سکتا ہے۔  بینک یہ حق بھی محفوظ رکھتا ہے کہ کارڈ کے زریعے مقامِ خرید (پی او ایس ٹرمنل )  پر  رقم ادائگی کی حد میں کمی یا اضافہ کر سکتاہے۔ روازنہ رقم نکلوانے کی  کم از کم /زیادہ سے زیادہ حد  مختلف بینکوں سےتعلق رکھنے والے اے ٹی ایم پر مختلف ہوتی ہے۔ ان حدود کا علم نہ ہونے  اور مختلف اے ٹی ایم پر رقم نکلوانے کی حدود یکساں نہ ہونے کے باعث صارف کو  درپیش کسی بھی نقصان کی ذمہ داری بینک پر عائد نہیں ہوگی۔

    3.14۔ اگر کارڈ ہولڈر کو بیوپاری/ فروخت کنندہ سے شکائت یا دیگر تحفضات ہوں  تولازم ہے کہ کارڈ ہولڈر ان شکایات کو بیوپاری/فروخت کنندہ سے بذاتِ خود حل کرے۔اس حوالے سے بینک پر کوئ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ ایسی شکایات یا تحفضات کا ازالہ کرے

  • پن کا اجراء

    کارڈ ہولڈر ، ہیلپ لائن پر کال کرکے اپنے کارڈ کی نئی پن تخلیق کرسکتا ہے اور اپنی اے ٹی ایم پن تبدیل بھی کر سکتاہے۔ ہیلپ لائن پر موجود ایجنٹ تصدیق کرنے کے بعد اس عمل کی راہنمائ کریں گے۔ پن کی رازداری نہائیت ضروری ہے، کارڈ ہولڈر کسی کو بھی اپنا پن نہیں بتائے گا۔ اگر کارڈ ہولڈر مکمل رازداری نہ نبھا سکا تو  تمام تر نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔ اگر پن کو کارڈ کے ساتھ ہی رکھا گیا تو چوری یا گم ہونے کی صورت میں پن کے زریعے کی جانے والی تمام رقم منتقلیوں کا ذمہ دار کارڈ ہولڈر خود ہوگا۔

  • انٹرنیٹ بینکاری

    5.1۔ ان کارڈ ہولڈر ز کو انٹرنیٹ بینکاری کی سہولت دستیاب ہوگی جو اپنے کارڈ سے منسلک بینک اکاؤنٹوں پر برقی زرائع سے رقم منتقلی  یعنی ای ایف ٹی  خدمات کیلئے رضامندی دے دیں۔

    5.2۔ انٹرنیٹ بینکاری خدمات حاصل کرنے کیلئے لازم ہے کہ کارڈ ہولڈر بینک کے ساتھ رجسٹرڈ ہو۔

    5.3۔ ابتداء میں بینک کارڈ ہولڈر کو لاگ ان پاس ورڈ اور شناختی کوڈ فراہم کرے گا جسے استعمال کرکے کارڈ ہولڈر انٹر نیٹ بینکاری کی سہولیات تک رسائ  حاصل کر سکے گا۔

    5.4۔ کارڈ ہولڈر کیلئے لازم ہے کہ وہ پاس ورڈ اور شناختی کوڈ کی حفاظت کرے  اور اسے باقاعدگی  سے تبدیل کرتا رہے۔ اس کے علاوہ جب بھی انٹر نیٹ بینکاری خدمات پاس ورڈ اور شناختی کوڈ تبدیل کرنے کو کہیں، فوراً ایسا کرے۔

    5.5 ۔ کارڈ ہولڈر اس بات سے اتفاق کرتا ہے اور بینک کو یقین دہانی کرواتا ہے کہ  وہ انٹرنیٹ بینکاری خدمات استعمال کرنے کے دوران کسی بھی نقصان،   کٹوتی،  ڈیمانڈ، قیمت ، کلیم وغیرہ کا ذمہ دار  بینک کو نہیں ٹھہرائے گا جو  انٹرنیٹ بینکاری کے باعث پیش آئیں۔

    5.6 ۔ بینک ،انٹر نیٹ بینکاری خدمات  کے حوالے سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرامد کی  یقین دہانی نہیں کرواتا ، نہ ہی اس کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، خواہ ایسی ہدایات کارڈ ہولڈر کی اجازت کے بغیر ہی کیوں نہ جاری کی گئی ہوں۔

  • برقی زرائع سے رقم منتقلی کیلئے رضامندی

    6.1۔ ای ایف ٹی خدمات  صارفین کی رضامند ی کے بعد فراہم کی جائیں گی۔

    6.2۔ ای ایف ٹی خدمات سے فائدہ اٹھانے  کا ایک طریقہ ِ کار ہے

    6.2.1۔ نئے صارفین کیلئے ای ایف ٹی کیلئے رضامندی کا خانہ اکاؤنٹ کھولنے کے فارم میں  شامل کر دیا گیا ہے۔

    6.2.2۔  پہلے سے موجود صارف کو قریبی بینک شاخ پر آکر، بائیو میڑک تصدیق کے بعد رضامندی فراہم کرنا ہوگی۔

    6.3۔ صارف اس بات سے اتفاق کرتا ہے اور بینک کو یقین دہانی کرواتا ہے کہ  وہ   ای ایف ٹی خدمات استعمال کرنے کے دوران کسی بھی نقصان،   کٹوتی،  ڈیمانڈ، قیمت ، کلیم وغیرہ کا ذمہ دار  بینک کو نہیں ٹھہرائے گا جو  انٹرنیٹ بینکاری کے باعث پیش آئیں۔

    6.4۔  بینک ،ای ایف ٹی خدمات  کے حوالے سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرامد کی  یقین دہانی نہیں کرواتا ، نہ ہی اس کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، خواہ ایسی ہدایات کارڈ ہولڈر کی اجازت کے بغیر ہی کیوں نہ جاری کی گئی ہوں۔

    6.5۔ ای ایٖف ٹی کی موجودہ حدود درجِ ذیل ہیں

    چینل

    ای ایم وی ویزا کلاسک کور (روزانہ رقم منتقلی کی حد)

    ای ایم وی ویزا کلاسک پلس (روزانہ رقم منتقلی کی حد)

    اے ٹی ایم

    250،000

    500،000

    انٹرنیٹ بینکاری

    250،000

    500،000

    موبائل ایپ

    250،000

    500،000

  • شکایات

    کارڈ ہولڈر تحریری شکل میں بینک کو آگاہ کرے گا اگر اسے شک گزرے کہ اکاؤنٹ کی تفصیل  کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے، یا ایس محسوس ہو کہ کارڈ کے استعمال کے حوالے سے کوئ  غلطی موجود ہے اور کارڈ ہولڈر کو  کسی رقم منتقلی  کے بارے میں مزید وضاحت درکار ہے۔ یہ درخواست  کارڈ کے زریعے رقم منتقلی یا اکاؤنٹ کی تفصیل موصول ہونے کے سات (7) روز کے اندر کرنا ہوگی۔ کارڈ ہولڈر  اپنے تحریری نوٹس کے ہمراہ تمام تر تفصیلات   بھی فراہم کرے گا تاکہ معاملہ کی چھان بین کی جا سکے۔ اس کے علاوہ  بینک کو اگر کوئ دیگر  معلومات درکار ہوں تو بینک وہ بھی فراہم کرے گا۔ تمام تر تفصیلات موصول ہونے پر بینک معاملے کی تحقیق کرے گا جس کے نتائج  حتمی اور فیصلہ کن ہوں گے۔

  • اکاؤنٹ کی تفصیل

    بینک اپنی صوابدید کے مطابق مخصوص عرصہ کیلئے اکاؤنٹ کی تفصیل کارڈ ہولڈر کو فراہم کرے گا۔  اگر کارڈ ہولڈر اس تفصیل میں  رقم منتقلی سے متعلق کسی قسم کی بے قاعدگی یا غلطی محسوس کرے تو وہ سات (7) روز کے اندر اس کی تحریری اطلاع بینک کو دے گا۔ اگر سات (7) دن کے اندر ایسی کوئ تحریری اطلاع موصول نہ ہوئ تو بینک  بھیجی گئی رقم منتقلیوں کی تفصیل  کو درست اور ہتمی تصور کرے گا۔

  • فیس، واجبات، ٹیکس اور منہائیاں وغیرہ

    9.1۔ بینک ہر کارڈ ہولڈر سے مروجہ ضابطہِ وصولیات کے مطابق فیس وصول کرے گا۔

    9.2۔   بینک کے اے ٹی ایم یا منسلک نظام کے اے ٹی ایم یا بیرونِ ملک اے ٹی ایم استعمال کرنے کی فیس بینک کے ضابطہِ وصولیات کے مطابق وصول کی جائے گی (جہاں جہاں لاگوہو)۔

    9.3۔ ہر مرتبہ اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرنے پر بینک کی جانب سے فیس وصول کی جائے گی جو ویزا کی لاگو کردہ ہے۔ یہ فیس بینک کے مروجہ ضابطہِ واجبات کے مطابق  وصول کی جائے گی۔

    9.4۔ اگر کارڈ ہولڈر اکاؤنٹ کی کرنسی کے علاوہ کسی دوسری کرنسی میں رقم ترسیل کرے گو تو اس پر اضافی اخراجات لاگو ہوں گے۔ یہ اخراجات    وصول کی جانے والی کرنسی اور اکاؤنٹ کی کرنسی  کی باہمی شرعِ تبادلہ کے مطابق ہوگی اور بینک کے مروجہ ضابطہِ واجبات کے مطابق  وصول  کئیے جائیں گے ۔

    9.6۔ نئے کارڈ کے اجراء اور/یا کارڈکے دوبار ہ اجراء کی صورت میں بینک کی جانب سے عملیاتی فیس  لاگو ہو گی ۔ یہ فیس بینک کے مروجہ ضابطہِ واجبات کے مطابق  وصول کی جائے گی۔

    9.7۔ کارڈ ہولڈر تمام تر ٹیکس، منہائیاں، ڈیوٹی اور  دیگر تمام اخراجات ادا کرنے کا پابند ہوگا جو کارڈ کے اجراء اور استعمال سے وابسطہ ہوں گے۔

  • ذمہ داری اور تلافی

    10.1۔ اگر بینک کو کارڈ کی سہولیات  فراہم کرنے  میں رکاوٹ  یا تاخیر درپیش آرہی ہو تو ایسی صورت میں پیش آنے والی کسی بھی نقصان کیلئے بینک کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔

    10.2۔ اے ٹی ایم اور پی اور ایس ٹرمینل پر  کسی  خرابی  کی وجہ سے کارڈ استعمال نہ ہونے کے باعث پیش آنے والے نقصان کا بینک ذمہ دار نہیں ہوگا، نہ ہی کسی اے ٹی ایم میں تکنیکی خرابی یا ٹوٹ پھوٹ اور/یا اس کے باعث عارضی یا طویل وقت کیلئے   اےٹی ایم یا پی او ایس ٹرمینل پر کارڈ کی خدمات کی عدم دستیابی کی ذمہ داری بینک پر عائد ہوگی نہ ہی اس سلسلے میں  کسی قسم کا کوئ تنازعہ قابلِ قبول ہوگا۔

    10.3 ۔ بینک ایسے حالات  کا ذمہ دار نہیں ہوگا جو بینک کی دسترس سے باہر ہوں۔ ہڑتال، جنگی صورتِ حال، بجلی کی فراہمی میں تعطل، ساز وسامان میں نقص یا اس قسم کی دیگر  صورتِ حال  کے باعث کارڈ کی خدمات میں رکاوٹ یا تاخیر کی صورت میں پیش آنے والے  نقصان کی ذمہ داری بینک پر عائد نہیں کی جائے گی۔

    10.4 ۔ کارڈ ہولڈر اس بات کی یقین دہانی کرواتا ہے کہ وہ بینک کو کسی بھی کلیم، ڈیمانڈ، نقصانات، ذاتی جانچ پڑتال،  قیمت، اخراجات  اور    واجبات سے مبرا کرتا ہے جو کارڈ کے استعمال کے باعث قوتاً فوقاً  بینک کو درپیش ہونے کاامکان ہو ،  بینک کو برداشت کرنا پڑیں   یاکسی ایسی وجہ کے باعث پیدا ہوں جو کارڈ کا پِن  لاپتہ، گُم یا چوری ہوجانے کی صورت میں   یا  کارڈ ہولڈر کی جانب سے اِن شرائط و ضوابط پر عملدرامد نہ کرنے کی صورت میں  نیک نیتی کے باعث  بینک کےکارڈ ہولڈر کی ہدایات  پر عمل کرنے یا نہ کرنے کی صورت میں پیش آئیں۔

    10.5۔   بینک کارڈ کے  استعمال کے زریعے  خریدی گئی اشیاء کے میعار، مقدار،   شمار یا قابلِ قبول ہونے کا ذمہ دار نہیں ہے ،  نہ ہی بینک کسی مقامِ بیوپار/سہولت پر زائد رقم وصول کئیے جانے کا  ذمہ دار ہوگا اور نہ ہی کسی مقامِ خرید/سہولت پر کارڈ کے زریعے شرائطِ ادائگی کی خلاف ورزی کی ذمہ دار ہوگا۔ ایسی کسی بھی صورتِ حال میں جب کارڈ ہولڈر اور بیوپاری/ سہولیات فراہم کرنے والے مرکز کے مابین تنازعہ کی صورت میں کارڈ ہولڈر  بینک کو رقم ادا کرنے کا پابند رہے گا اور یہ پابندی کسی صورت کم، ختم یا منسوخ نہیں ہوگی۔

  • خدمات

    بینک ، اپنی صوابدید پر کارڈ ہولڈر کو  اے ٹی ایم، پی او ایس ٹرمینل اور/یا  اس سے منسلک نظام  پر کارڈ ہولڈر کی سہولت اور آسان کے مطابق  خدمات فراہم کرے گا۔ بینک  وقتاً فوقتاً ان  خدمات کی فیس  اور واجبات  کا اطلاق کرتا رہے گا  جن کی کٹوتی   کارڈ ہولڈر کے   ایک یا ایک سے زائد منسلک بینک اکاؤنٹ سے  ہوتی رہے گی ۔بینک اس بات کا بھی مجاز ہے کہ وہ اپنی مکمل صوابدید  پر کسی بھی وقت، بغیر  پیشگی اطلاع کے کارڈ  اور /یا اس کے زریعے فراہم کی جانے والی اندرون یا بیرون پاکستان  سہولیات کو واپس لے لے ، روک دے، مؤخر یا منسوخ کردے۔ ایسی  کسی بھی صورتِ حال میں پیش آنے والے کسی بھی نقصان یا تاوان کا بینک ذمہ دار نہیں ہوگا

  • تشہیر

    12.1۔ کارڈ ہولڈر بینک کو مکمل طور پر مجاز کرتا ہے کہ بینک کسی بھی وقت اور کسی بھی مقصد کیلئے کارڈ ہولڈر کی ذاتی معلومات، اکاؤنٹ، رقم منتقلیوں یا ادائگیوں کی تفصیل بینک کے صدر دفتر،  کسی بھی شاخ، مددگار ادارے یا  کہیں بھی واقع دیگر وابسطہ اداروں کو ؛ کسی بھی حکومتی یا عملدرامد ایجنسی یا پاکستان اور کہیں کے بھی مجاز افرادِ اختیار؛ کسی بھی ایسے ایجنٹ یا ٹھیکیدار کو جس کا  بینک کے فائدے کیلئے بینک کے ساتھ خدمات فراہمی کا معاہدہ طے ہے؛ قرض کی معلومات حاصل کرنے والے اداروں؛ ویزا انٹر نیشنل کے ارکان؛ یا کسی بھی ایسے فرد یا افراد کو جسے کسی بھی وجہ سے  قانوناً  معلومات درکار ہوں یا پھر بینک انہیں یہ معلومات فراہم کرنا ضروری سمجھتا ہو مہیا کر سکتا ہے۔کارڈ ہولڈر تمام معلومات فراہم کرے گا اگر یہ قانوناً یا مجازاً درکار ہوں یا  بوجوہ وقتاً فوقتاً بینک  کے طلب کرنے پر۔ بینک کارڈ ہولڈر کی معلومات  کسی بھی مجاز  عدالت ،  قانونی مجاز  افرادِ اختیار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کسی بھی دیگر مجاز ادارے کو یا  بینک کے کاروبار سے وابسطہ فرد/افراد کوفراہم کر سکتا ہے ۔

    12.2 ۔ اگر کارڈ کے استعمال یا استعمال کے مقصد ، گمشدگی  یا کارڈ کے غلط استعمال کے باعث کوئ کلیم یا تنازعہ پیدا ہو جائے  تو ایسی صورت میں بینک   کارڈ کے زریعے رقم منتقلی کی تفصیلات کسی ایسے فرد کو، جس  کو ان تفصیلات کا علم ہو سکتا ہے، جس میں مجازافراد ِ اختیار شامل ہیں کو    ضروی سمجھے جانے  پراور اپنی   مکمل صوابدید پر   کلیم یا تنازعہ کی تفتیش   یا قرض وصولی کرنے والے اداروں کی سہولت کیلئے یہ معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

  • شرائط و ضوابط

    13.1. کارڈ کے استعمال کے لئے ٹرم اور شرائط مندرجہ ذیل کے طور پر وضاحت کئے جائیں گے کہ غیر قانونی طور پر کارڈ ہولڈر کی طرف سے کارڈ ایپلی کیشن پر دستخط کئے گئے، یا کارڈ کے ریورس پر دستخط کرکے یا کارڈ ٹرانزیکشن کے ساتھ کسی بھی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے کارڈ یا کارڈ کے چالو کرنے کے لئے یا بینک کے ریکارڈ پر کارڈ ہولڈر کے پاس کارڈ کے ڈسپلے کی تاریخ سے تین دن (3) دن کے بعد درخواست دینے کے ذریعے. یہ شرائط و ضوابط کارڈ ہولڈر کے کسی بھی اکاؤنٹ سے متعلق شرائط و ضوابط کے اخراجات کے علاوہ اور خالص ہوں گے.

    13.2. بینک کو اس کارڈ کی پیش کردہ کسی خاص خصوصیت میں تبدیلی، ترمیم یا نظر ثانی کرنے اور ان شرائط و ضوابط کو تبدیل کرنے کا بھی حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی طرح سے بینک کے کسی بھی طریقے سے کارڈ کے استعمال کے شرائط و ضوابط میں کسی بھی تبدیلی کے کارڈ ہولڈر کو مطلع کرسکتا ہے. مناسب سمجھتا ہے. کارڈ ہولڈر کو بینک کے کسی بھی تبدیلی کے ایڈریس کو مطلع کرنا ضروری ہے. بینک بینک کی شاخوں کے ارد گرد یا ایک پریس اشتہار کی طرف سے یا کارڈ ہولڈر کی اکاؤنٹنگ اکاؤنٹ میں پیغام کے ذریعہ یا اس کے اندر اندر کسی نوٹس کو ظاہر کرنے کی طرف سے ان شرائط و ضوابط کے مختلف قسم کے کارڈ ہولڈر نوٹس کو بھی دے سکتا ہے. کسی بھی ذریعہ سے بینک مناسب ہو سکتا ہے.

  • کارڈ ہولڈر کی وفات

    "کارڈ ہولڈر کی موت کے واقعے میں، تمام کارڈ ٹرانزیکشن پہلے سے ہی اکاؤنٹ میں ڈیبٹ کیے جائیں گے. تمام کارڈ کا کارلڈر کی موت کے نوٹس کی وصولی پر منسوخ ہو جائے گا. مقتولین، ذاتی نمائندوں اور / یا مقتول کے وارث کارڈ اور خدمات کے استعمال کے نتیجے میں اس طرح کے جمع معاوضہ کے لئے ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے.

  • بینک کو مستحکم کرنے کا حق

    ان شرائط و ضوابط میں موجود برعکس کسی بھی شق کے باوجود، بینک کو کسی بھی وقت اور اس کے واحد صوابدید کو حقائق کے بغیر کسی بھی کارڈ کارڈ کے نام پر بغیر کسی پیشکش کو جمع کرنے، جمع کرنے اور / یا ضم کرنا ہوگا. کارڈ ہولڈر اور اس طرح کا حق مضبوط، جمع اور / یا ضم کرنے کے حق میں کسی بھی قابل اعتماد ایڈجسٹ یا مقرر کرنے کا حق شامل ہے کہ کارڈ ہولڈر بینک کے حق میں ہوسکتا ہے. اگر اس طرح کے ہم آہنگی کے بعد، مجموعہ یا ضمیر، بینک کے حق میں کمی یا کمی پیدا ہوتی ہے تو، کارڈ ہولڈر بینک کی طرف سے سب سے پہلے مطالبہ کے مطابق اسی کو ادا کرنے پر پابند رہیں گے.

  • نوٹسز

    16.1. سروس کے اثرات کے لۓ تمام مباحثوں، نوٹسوں یا مطالبات کے بغیر کسی دوسرے موڈ کو تعصب کے بغیر، درست طریقے سے مؤثر طریقے سے موصول ہو یا بھیج دیا جائے تو بھیجے جائیں گے یا ذاتی طور پر بھیج دیا جائے یا ترسیل یا ٹیلی فون یا فیکس یا رجسٹرڈ میل / کورئیر بینک کے ریکارڈ کے مطابق کارڈ ہولڈر کے آخری نام سے پتہ چلتا ہے اور ترسیل کی اصل تاریخ، جہاں ذاتی طور پر بھیجا جاتا ہے یا رجسٹرڈ میل کے ذریعہ بھیج دیا جائے گا، تین دنوں کے بھیجنے کے بعد اور پوسٹنگ کے بعد اگلے دن، اگر کورئیر کی طرف سے بھیج دیا گیا ہے. ٹیلی فون یا فاسسل ٹرانسمیشن کی جانب سے بھیجا جانے والے کسی بھی مواصلات کے معاملے میں اس طرح کے مواصلات کو تاریخ کے بارے میں تصور کیا جاسکتا ہے جس میں ٹیلی فون یا فاسسل ٹرانسمیشن اصل میں بھیجا گیا تھا. کارڈ ہولڈر کو بھیجے جانے والے ان شرائط و ضوابط کے تحت تمام نوٹسوں کو مواصلات کے طور پر سمجھا جائے گا.

    16.2.ان شرائط و ضوابط کے تحت کارڈ ہولڈر کے ذریعہ بینک کو کسی بھی نوٹس یا ہدایات کو تحریری طور پر دیا جاسکتا ہے یا ذاتی طور پر پہنچایا جاتا ہے یا رجسٹرڈ پوسٹ یا کورئیر کے ذریعہ بھیج دیا جائے گا اور ایک کاروباری دن کے بعد یا اس طرح کے طویل عرصے بعد بینک کو ضرورت ہو گی. اس نوٹس کے بینک کی اصل وصولی کے بعد.

  • ختم

    17.1. کارڈ ہولڈر کسی بھی وقت کارڈ اور خدمات کے استعمال کو بند کر کے بینک کو تحریر نوٹس دے کر تمام کارڈوں کی واپسی کے ساتھ دو ڈراگون میں کاٹ کر بند کردیتے ہیں. کارڈ ہولڈر کے تمام الزامات کے ذمہ دار ذمہ دار ہوں گے جو بینک کے تحریری نوٹس کی جانب سے کٹوتی کارڈ کے ساتھ رسید کی تاریخ تک پہنچ گئی ہے، اور بینک کی طرف سے باضابطہ طور پر تسلیم کیا جائے گا.

    17.2. کسی بھی وقت کسی بھی وجہ سے اور کارڈ ہولڈر کو کسی بھی نوٹس کے ساتھ یا بغیر بغیر کسی کو تفویض کرنے کے بغیر بینک کو منسوخ کرنے کے لئے بینک کسی بھی وقت مستحق ہو گا. کارڈوں کو منسوب کرنے کے بعد، کارڈ ہولڈر کو دو کارڈوں میں بینک کا کٹانے کے لئے تمام کارڈز واپس آ جائیں گے. کارڈ ہولڈر کٹوتی کارڈوں کی رسید کی تاریخ تک لے جانے والے تمام الزامات کے ذمہ دار ہوں گے اور قانونی طور پر بینک کی طرف سے منظوری دی جاتی ہے.

  • دست کشی

    بینک کسی بھی وقت ان شرائط و ضوابط میں یا کسی اور وقت سے یا کسی اور وقت میں تاخیر یا غیر مستقیم طور پر یا دوسری صورت میں ہو سکتا ہے یا تاجر کے کسی بھی ڈیفالٹ یا خلاف ورزی، اس طرح فراہم کی گئی ہے کہ اس طرح کی معافی کے ذریعہ بینک میں لکھا گیا ہے، بچت، کوئی سنبھالنے یا کسی معاوضہ کے عذر کے مطابق. یا ان شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی کی جائے گی جس میں ملک کے حقائق اور اقتدار سے متعلق بینک اور نہایت کسی چیز کی طرف سے جس کی طرف سے بینک کی طرف سے یا تقسیم کیا گیا ہے، اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے یا نہیں سے بینک کی طرف سے. بینک کی طرف سے لکھنا. اگر کوئی تحریری تحریر دیا جائے تو صرف اس مخصوص میلر کی چھوٹ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے جس پر اس سے تعلق رکھتا ہے اور کسی بھی مزدور کے طور پر ان شرائط و ضوابط میں سے کوئی نہیں ہو گا....

  • گورنمنٹ قوانین

    19.1.یہ شرائط و ضوابط اور کارڈ کا استعمال پاکستان کے بنیادی اور طرز عمل کے قوانین کی طرف سے کیا جائے گا، بشمول اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تمام اطلاعات، ہدایات، سرکلر اور قواعد بھی شامل ہیں.

    19.2. کارڈ ہولڈر / اضافی کارڈ ہولڈر ان شرائط و ضوابط سے متعلق کسی بھی تنازع کے حوالے سے پاکستان میں قابل عدالت عدالتوں کے خصوصی دائرہ کار کو پیش کرتے ہیں، اگرچہ بینک کو پاکستان کے باہر عدالتوں میں قانونی مراحل / علاج کے حصول کا حق حاصل ہے تو بینک کو کارڈ ہولڈر سے کسی بھی رقم کی وصولی کے لئے بینک. کارڈ ان شرائط و ضوابط کے مطابق ہے اور کارڈ ہولڈر یا اضافی کارڈ ہولڈر کی طرف سے کارڈ کی برقرار رکھنے یا استعمال کا اعتراف کرنے کی صورت میں یہ ہے کہ کیس ہولڈر یا اضافی کارڈ ہولڈر، کیس کے طور پر، ان شرائط و ضوابط کے پابند ہوں گے. میں اس طرح سے اعلان کرتا ہوں اور اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے ایم ایم ایم ایل کے ساتھ اے ٹی ایم / ڈیبٹ کارڈ کے قیام اور آپریشن سے متعلق اے ٹی ایم / ڈیبٹ کارڈ کی خدمات کے لئے شرائط و ضوابط کی نقل، سمجھا اور وصول کیا ہے اور یہاں پر عہد کی طرف سے اور مشاہدہ اور پابند بیان کردہ شرائط و ضوابط اور کسی بھی تبدیلی، سپلیمنٹ یا ترمیم کے مطابق اس وقت بینک کی جانب سے وقت وقت پر کیا جا سکتا ہے.

  • اکاؤنٹ کھولنے کا فارم (انفرادی / مشترکہ)

        واضح کردہ اصطلاحات
    1.1  
     جب تک کہ سیاق و سباق کی لئے کچھ دیگر درکار نہ ہو، یہاں استعمال کی کئی اصطلاحات کا مطلب درج ذیل ہوگا۔
    "اکاؤنٹ"  کا مطلب روپے کا کوئی بھی بینک اکاؤنٹ تصور کیا جائے گا جو بینک کی کسی برانچ میں صارف کی جانب سے رکھا جائے گا۔
    "اے ٹی ایم سروس"  کا مطلب بینکنگ کی وہ تمام مجاز خدمات تصور کی جائیں گی جنہیں صارف اے ٹی ایمز کے ذریعے حاصل کرسکتا ہے۔
    "بینک"  کا مطلب موبی لینک مائیکرو فنانس بینک لمیٹڈ کی تما م یا کوئے بھی برانچ تصور کیا جائے گا۔ 
    "بزنس ڈے" کا مطلب کوئی بھی ایسا دن تصور کیا جائے گا جس دن بینک کی متعلقہ برانچ بینکنگ کے کاروبار کے لئے کھلی ہوئی ہوگی۔
    "صارف" کے مطلب میں وہ فرد، فرم، ادارہ، کمپنی یا کوئی دیگر ہستی شامل ہے جو بینک کے ساتھ ایک یا ایک سے زائد اکاونٹ رکھتا ہے۔
    "روپے" کا مطلب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قانونی کرنسی تصور کیا جائے گا۔
    "ایس بی پی" کا مطلب "اسٹیٹ بینک آف پاکستان" تصور کیا جائے گا۔
    "سروسز"  کا مطلب وہ خدمات لیا جائے گا جو بینک، اپنی صوابدید پر، اکاونٹ کے سلسلے میں وقتاً فوقتاً پیش کرتا ہے۔
    "اصطلاحات"  کا مطلب بینک کے اکاونٹس اور خدمات کے لئے وہ اصطلاحات اور شرائط لی جائیں گی جن میں وقتًاً فوقتاً ترمیم ہوتی رہے گی۔
    "لین دین" کا مطلب کوئی بھی ایسا لین دین تصور کیا جائے گا جو اکاونٹ اور/یا اس پر فراہم کی جانے والی خدمات سے متعلق کسی صارف کی طرف سے کیا گیا ہوگا۔
    .2    اکاؤنٹس کھولنے اور چلانے کا عمل
    ۱.    بینک کے ساتھ اکاؤنٹ کھولنے کا خواہش مند صارف اکاؤنٹ کھولنے کے لئے اچھی طرح مکمل شدہ اکاؤنٹ کھولنے کا فارم جمع کروائے گا۔ صارف اکاؤنٹ کھولنے اور چلاتے رہنے کے لئے ایسی معلومات اور دستاویزات فراہم کرے گا جو بینک کو وقتاً فوقتاً درکار ہوں گے۔ 
    ۲.    اگر کسی وجہ سے بینک کو فراہم کی گئی نامکمل دستاویزات اور/ یا معلومات کی بنیاد پر کوئی اکاؤنٹ کھل جاتا ہے، تو بینک اپنی صوابدید پر اس اکاؤنٹ پر اس وقت تک کارروائی روک سکتا ہے جب تک کے ناموجود دستاویزات اور / یا معلومات بینک کے اطمینان کے مطابق فراہم نہیں کردی جاتیں۔ ان ضروریات کو پورا نہ کرنے کی صورت میں،بینک کے پاس یہ اختیار موجود ہوگا کہ وہ صارف کو پیشگی نوٹس دیتے ہوئے ایسے اکاؤنٹ کو بند کردے۔ اگر بینک کو بعد میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکاؤنٹ سے متعلق فراہم کی گئی معلومات یا دستاویزات جعلی یا جھوٹی ہیں، تو بینک اپنی صوابدید پر صارف کا اکاؤنٹ بند کرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں بینک کسی ایسی ذمہ داری یا نقصان کا ذمہ دار نہ ہوگا جو اکاؤنٹ بند کرنے کے نتیجے میں صارف کو برداشت کرنا پڑے گا۔
    ۳.    بینک کسی بھی قسم کی کوئی بھی وجہ بتائے بغیر اکاؤنٹ کھولنے سے انکار کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
    ۴.    ہر اکاؤنٹ کو ایک مخصوص نمبر الاٹ کیا جائے گا، جس کا اکاؤنٹ کے سلسلے میں بینک کے ساتھ کی جانے والی تمام خط و کتابت میں حوالہ دیا جائے گا۔
    ۵    بینک کسی بھی وقت، جہاں بینک کو یہ شبہ ہو کہ کوئی فراڈ اورغیر قانونی حرکت عمل میں لائی گئی ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے کے وائی سی اور دیگر متعلقہ ضوابط اور / یا ہدایات کے مطابق، کسی نقصان کے بغیر اور صارف کو کوئی وجہ بتائے بغیر، کسی بھی ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کرسکتا ہے۔
    ۶.    بینک صارف کے اکاؤنٹ کی رازداری کو محفوظ رکھنے کے لئے ہر ممکن جدوجہد کرے گا۔ تاہم اس کے باوجود صارف یہ اعتراف کرتا ہے کہ بینک، منی لانڈرنگ کے خلاف قوانین و ضوابط اور بینک کی اندرونی پالیسیوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ صارف اکاؤنٹ، لین دین اور خدمات کے حوالے سے بینک کی جانب سے عمل درآمد کے مقاصد کے لئے درخواست کردہ معلومات بینک کو فراہم کرنے پر اتفاق کرتا ہے اور بینک کو یہ اختیار تفویض کرتا ہے کہ وہ اس کے اکاؤنٹ، صارف، خدمات یا ان کے ساتھ منسلک لین دین کے بارے میں قانون کے تحت درکار کوئی بھی معلومات پاکستان میں اور / یا بیرون ملک کسی بھی تحقیقاتی / سرکاری ادارے اور / یا کسی بھی ایسے فرد کو فراہم کردے جن کے بارے میں بینک یہ محسوس کرتا ہے کہ انہیں موجودہ قوانین و ضوابط کے تحت ایسا کرنے کا اختیار حاصل ہے اور ایسا کوئی انکشاف کسی عدالتی حکم اور / یا علاوہ ازیں بینک اور / یا اس کے ملازمین کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے ضروری ہے یا اس کے مطابق ہے۔
    .3    مشترکہ اکاؤنٹ
    ۱.    اگر اکاؤنٹ دو یا اس سے زائد افراد کے نام پر کھولا گیا ہے، تو اس کے کریڈٹ کا بیلنس کسی بھی وقت مشترکہ صارفین کی ملکیت ہوگا۔ ایسے افراد مشترکہ طور پر اور الگ الگ اکاؤنٹ اور/ یا اس کے سلسلے میں بینک کی جانب سے فراہم کردہ خدمات کے حوالے سے ہونے والے کسی یا تمام نقصانات کے ذمہ دار ہوں گے۔
    ۲.    بینک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جن افراد کے نام پر اکاؤنٹ کھولا گیا ہے، وہ ان میں سے زندہ بچ جانے والے فرد / افراد کو، یا ان کے حکم پر کسی فرد کو یا ایسے کسی زندہ بچ جانے والے فرد کے قانونی طور پر ذاتی نمائندے کو کوئی بھی رقوم، سیکورٹیز یا جائیداد ادا یا فراہم کردے، جو مشترکہ اکاؤنٹ میں کریڈٹ ہیں یا بینک کے پاس کسی ایک یا زیادہ زندہ بچ جانے والوں کے کریڈٹ پر موجود ہیں۔
    ۳.    یہ کہ کسی مشترکہ اکاؤنٹ کی صورت میں درج ذیل مزید شقوں کا اطلاق ہوگا۔
    کسی ایک یا تمام صارفین کی موت واقع ہوتی ہے یا نہیں، بینک اس وقت تک دستخط کرنے کی مجاز اتھارٹی پر بھروسہ کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً کام کرتا رہے گا جس کا نام بینک کو دیا گیا ہے جب تک کہ ان کی جانب سے یا ان کی جانب سے کسی اور کی طرف سے کوئی تحریری نوٹس موصول نہیں ہوجاتا کہ اس اتھارٹی کو قانون کی عمل داری یا کسی دیگر وجہ سے ختم یا منسوخ کردیا گیا ہے۔ صارفین میں سے کسی کی موت کی صورت میں بھی، ایسے کسی مشترکہ اکاؤنٹ کے کریڈٹ میں جمع شدہ رقم ایسی کسی موت کی صورت میں زندہ بچ جانے والوں کی ملکیت ہوگی اور بینک کی جانب سے اسی انداز میں اس کی ادائیگی کی جاسکے گی۔
    ۴.    مشترکہ اکاؤنٹ کے دستخط کاروں کی جانب سے بینک کو متضاد ہدایات موصول ہونے کی صورت میں، بینک کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایسی ہدایات پر عمل نہ کرے، اور بینک کے لئے یہ امر ضروری قرار دیا جائے گا کہ مستقبل میں تمام ہدایات پر تمام دستخط کار مشترکہ طور پر دستخط کریں۔ بینک کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ صارف / صارفین کو نوٹس دئیے بغیر اس اکاؤنٹ کا آپریشن بند کردے۔
    5.    پی ایل ایس سیونگز / پی ایل ایس نوٹس / پی ایل ایس ڈیپازٹس
    5.1    بینک کی نفع اور نقصان شےئرنگ اسکیم پاکستان میں بینک کے کاروبار کے نفع / نقصان تک محدود ہے کیوں کہ بینکار اور بینک اکیلے ہی صارف کے اکاؤنٹ کے کریڈٹ پر رقوم کے استعمال اور اس کی سرمایہ کاری کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
    5.2    پی ایل ایس سیونگز، اور پی ایل ایس نوٹس اور پی ایل ایس ٹرم ڈیپازٹس اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئی رقوم کے کسی بھی استعمال، سرمایہ کاری، عزم، فیصلے یا انہیں مختص کرنے کا کام اس انداز اور اس بنیاد پر اور ایسے اصولوں کی روشنی میں کیا جائے گا جیسا کہ بینک، کلی طور پر اپنی صوابدید کے مطابق وقتاً فوقتاً فیصلہ کرے گا۔
    .6    صارف کی موت یا دیوالیہ پن
    6.1    ایسی صورت میں جب بینک کو کسی انفرادی صارف کی موت کی اطلاع موصول ہوتی ہے، تو بینک مجاز حدود کی عدالت سے حاصل کئے گئے قابل عمل وارثت نامے، انتظامی خط یا مصدقہ وصیت نامے یا اس کے مساوی کوئی دستاویز پیش کئے بغیر، صارف کے کسی بھی اکاؤنٹ سے متعلق کسی بھی آپریشن یا رقم نکلوانے کی اجازت نہیں دے گا۔
    .7    اکاؤنٹس بند کرنا
    7.1    بینک اپنی واحد صوابدید پر (اور صارف کو نوٹس دیتے ہوئے یا بغیر کسی نوٹس کے) کسی ایسے اکاؤنٹ کو، جو بینک کے اطمینان کے مطابق نہیں چلایا جارہا یا کسی بھی دیگر وجہ سے، صارف کے متعلقہ اکاؤنٹ کو بند کرنے کی وجہ بتائے بغیر بند کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بینک کسی بھی قسم کے کاروباری تعلق / تعلقات کو ختم کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتا ہے۔
    7.2    اکاؤنٹ بند ہونے پر، اکاؤنٹ سے متعلق صارف کی جانب سے غیر استعمال شدہ کوئی بھی چیکس فوری طور پر بینک کو لازمی واپس کرنا ہوں گے۔ متبادل کے طور پر، تحریری طور پر بینک کے اطمینان کے مطابق یہ تصدیق کرنا لازم ہوگا کہ غیر استعمال شدہ چیکس اور / اے ٹی ایم کارڈ ضائع کئے جاچکے ہیں۔
    7.3    بینک کسی بھی اکاؤنٹ کو کسی بھی قسم کی وجہ بتائے بغیر بند کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، بشمول اس بات، لیکن اس بات تک محدود نہیں، کہ جب کوئی اکاؤنٹ کم سے کم درکار بیلنس رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔
    7.4    بینک کو ایسا کوئی اکاؤنٹ بند کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی جس کے لئے وہ صارف کو اس کے آخری، واقف پتے پر ایسے اکاؤنٹ میں موجود رقم کا ایک بینک ڈرافٹ/پے آرڈر، جو صارف کے حکم پر قابل ادائیگی ہوگا اور جس کی رقم اس وقت کے کریڈٹ بیلنس اور اس میں سے ایسی کٹوتی/کٹوتیوں کے بعد بنوا کر بجھوائے گا جو ایسی رقوم کے کریڈٹ بیلنس میں سے بینک کو قابل ادا ہوں گی۔
    .8    اکاؤنٹس سے رقوم نکلوانا
    8.1    چیکس اور ادائیگی کی دیگر ہدایات پر دستخط صارف کی جانب سے ان نمونوں کے مطابق کئے جائیں گے جو بینک کو فراہم کئے گئے تھے اور جن میں صارف کی تصدیق کے ساتھ ان میں تبدیلیاں کی گئی تھیں۔
    8.2    ناخواندہ صارفین اس وقت تک چیکس پر کاٹ پیٹ کرنے اور اس میں تبدیلی کے مجاز نہیں ہوں گے جب تک صارف اس کی تصدیق نہ کردے۔
    8.3    بینک صارف کی جانب سے کسی چیک پر ادائیگی روکنے کی ہدایت کو ریکارڈ کرلے گا۔ بینک ان ہدایات کے لئے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا جس پر موزوں انداز میں عمل درآمد نہیں کیا گیا، تعمیل نہیں ہوسکی یا تاخیر ہوگئی، اور استفادہ کرنے والے نیک نیتی کی بنیاد پر ادائیگی کردی گئی۔ بینک کسی بھی ایسی ہدایات کے لئے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا جو بینک کی رائے میں غلط طور پر پہنچائی گئی ہیں۔
    8.4    بینک وقتاً فوقتاً، اپنی واحد صوابدید پر اکاؤنٹس پر رقم نکلوانے کی ہفتہ وار (دیگر کسی مدت کے لئے) پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
    8.5    صارف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ صرف اس متعلقہ برانچ سے ادائیگیاں حاصل کرے جہاں اس کا اکاؤنٹ رکھا گیا ہے، جب کہ کچھ مخصوص لین دین/ رقوم نکلوانے کے لئے بینک نے واضح طور پر پاکستان میں بینک کی دیگر برانچوں سے یہ سہولت دینے کی اجازت نہ دی  ہو ایسی کوئی اجازت ان خدمات سے مشروط ہوگی جن کی بینک وقتاً فوقتاً وضاحت کر سکتا ہے۔
    8.6    کسی بھی نرم ڈیپازٹ سے اس کی تکمیل سے قبل رقم نکلوانے کا انحصار بینک کی واحد صوابدید پر ہے اور ایسے ٹرم ڈیپازٹ کے لئے منافع یا سود کا اطلاق اس مدت کے لئے ہوگا جو رقم نکلوانے سے قبل ٹرم ڈیپازٹ میں رکھا گیا تھا۔ ایسی رقم نکلوانے کی صورت میں بینک کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کر دہ پالیسی کے مطابق قبل از وقت ان کیشمنٹ/رقم نکلوانے کے ساتھ منسلک جرمانے یا اخراجات بھی لاگو ہوں گے جن سے صارف کو ڈیپازٹ ختم کرنے کے موقع پر آگاہ کیا جائے گا۔
    .9    تفصیلات کی تبدیلی
    9.1    صارف اکاؤنٹ / اکاؤنٹس کی تفصیلات میں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر بینک کو آگاہ کرے گا۔ جب تک تفصیلات کی ایسی کوئی تبدیلی سے بینک کو تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا جائے گا اور بینک کی جانب سے اسے تسلیم نہیں کرلیا جائے گا، تو بینک کو صارف کی جانب سے پہلے سے موجود ہدایات پر عمل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
    .10    چیک بکس
    10.1    کسی بھی اکاؤنٹ سے صرف بینک کی جانب سے فراہم کردہ چیک کے ذریعے صارف کی واضح تحریری درخواست پر ہی رقم نکلوائی جائے گی۔
    10.2    بینک صرف متعلقہ صارف یا ایسے کسی دیگر فرد جسے صارف نے تحریری طور پر مجاز قرار دیا ہوگا، ایک چیک بک جاری کرے گا۔ 
    10.3    صارف، بینک کی جانب سے جاری کردہ کسی بھی چیک بکس اور دیگر مالیاتی دستاویزات کو ہمہ وقت محفوظ طریقے اور حفاظت سے رکھنے کا عہد کرتا ہے۔صارف اس بات کو یقینی بنانے کے لئے پوری احتیاط برتے گا اور چوکس رہے گا کہ بینک کی جانب سے جاری کردہ تمام چیکس، چیک بکس اور مالی دستاویزات چوری نہ ہوں، ان میں کوئی رد و بدل نہ ہو یا کسی غیر مجاز مقصد کے لئے استعمال نہ ہوں۔ بینک کسی ایسے نقصان یا غیر ذمہ داری کے لئے، جو صارف کی مناسب دیکھ بھال میں ناکامی کی وجہ سے پیش آئے، ہرگز ذمہ دار نہ ہوگا۔ کسی بھی صارف کے چیک چوری ہوجانے یا گم ہوجانے یا جعل سازی کی صورت میں، صارف فوری طور پر بینک کوآگاہ کرے گا اور بینک کو ادائیگیاں روک دینے کی ہدایات جاری کرے گا۔ کسی بھی چیک بک کے گم ہوجانے پر بھی صارف کی جانب سے فوری طور پر بینک کو آگاہ کیا جائے گا۔ اگر صارف نے متعلقہ چیک پیش کئے جانے سے قبل چوری یا گم شدگی کی اطلاع دے دی ہے، تو ہو متعلقہ چیک کی ادائیگی کے نتیجے میں ہونے والے کسی نقصان یا خرابی کے لئے ذمہ دار ہوگا۔
    10.4    چیک بکس صارف یا اس کے مجاز نمائندے کو جاری کی جائیں گی۔ اگر صارف/صارفین یا اس / کے نمائندے/ نمائندوں کی جانگب سے پرنٹنگ کی تاریخ کے 60 دن کے اندر اندر چیک بک وصول نہ کی گئی تو  بینک کو وہ چیک بک ضائع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ ایسی صورت میں وصول کئے جانے والے چیک بک کے اخراجات/ دیگر سرکاری ٹیکسز واپس نہیں کئے جائیں گے۔ وصولی کے لئے بینک میں جمع کرائے گئے کسی چیک کی ادائیگی میں تاخیر یا گم شدگی کی صورت میں بینک اس مسئلے کے فوری حل کے لئے اپنی بہترین کوششوں کو استعمال کرے گا۔
    10.5    کسی بھی اکاؤنٹ سے رقم صرف بینک کی جانب سے فراہم کردہ چیک پیش کرنے پر ہی کی جائے گی، جس پر بینک کے پاس درج دستخط کرنے والی اتھارٹیز کے دستخط کے نمونوں سے مطابقت رکھنے والے دستخط کئے گئے ہوں گے۔
    10.6    اگر بینک کی رائے میں کوئی اکاؤنٹ اطمینان بخش طریقے سے نہیں چلایا گیا یا کسی بھی دیگر وجہ سے بینک کسی پیشگی نوٹس اور کوئی وجہ بتائے بغیر چیک بکس فراہم کرنے یا چیک بک کی سہولت واپس لینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
    .11    ڈیپازٹس
    11.1    بینک مکمل طور پر صارف کے اپنے رسک پر صارف کو قابل ادا چیکس، ڈرافٹس اور دیگر دستاویزات قبول کرسکتا ہے۔ کلےئر نہ ہونے والی چیزیں چاہے وہ کریڈٹ ہوچکی ہوں وصول نہیں کی جاسکیں گے، اور اگر انہیں وصول کرنے کی اجازت دے بھی دی گئی، تو بینک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دستاویزات سے رقم وصول نہ ہونے کی صورت میں اکاؤنٹ کو ڈیبٹ کردے۔
    11.2    صارف جمع کرنے والے بینک کی حیثیت سے بینک کو ہونے والے کسی بھی ایسے نقصان کی مکمل تلافی کرے گا جو صارف کی جانب سے جمع کرنے کے مقصد کے لئے پیش کئے گئے کسی چیک ، بل، نوٹ، ڈرافٹ، ڈیویڈنڈ وارنٹ یا کسی دیگر دستاویزات کی ضمانتی تصدیق یا ڈسچارج کی وجہ سے پیش آیا ہو۔
    11.3    صارف کی جانب سے جمع کروائے گئے چیکس یا دیگر قابل حصول دستاویزات جنہیں رد کر دیا گیا ہے وہ پہلے سے انہیں وصول کرنے کا کوئی بندوبست موجود نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ صارف کے اپنے رسک اور اخراجات پر صارف کو خصوصی ڈاک یا مسینجر کی ذریعے سے صارف کو اس پتے پر واپس بھیج دیئے جائیں گے جو آخری معلوم پتے کے طورپ پر بینک کے پاس موجود ہے۔
    11.4    بینک مکمل طور پر صارف کے خود اپنے رسک پر جمع کرنے کے لئے صارف کو قابل ادائیگی یا اس کے لئے توثیق کردوہ چیکس، ڈرافٹس یا دیگر دستاویزات وصول کر سکتا ہے۔
    11.5    چیکس کے ذریعے کئے گئے ڈیپازٹسکلیئرنس کے بعد ویلیوڈیٹ کئے جائیں گے۔ وہ تمام چیکس جو بینک میں جمع کروائے گئے انسٹرومنٹس کی وصولی کے لئے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔
    11.6    بینک جمع کروائے جانے والے کسی بھی ایسے چیکس کو قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہے جو کسی تیسرے فریق کے حکم پر قابل ادائیگی ہوں۔ صارف کو لازمی طور پر باقی ماندہ توثیقی عمل کی تصدیق کے لئے بینک کے ساتھ کوئی انتظام کرنا چاہیے۔ اکاؤنٹ میں جمع کروائے گئے تمام چیکس، آرڈرز، بلوں، نوٹس، قابل حصول دستاویزات اور رسیدوں اور دیگر دستاویزات کے حقیقی ہونے، درست ہونے اور ان پر تحریر کی گئی تمام توثیق کی مد کی درستگی کے باے میں صارف پوری ذمہ داری قبول کرتا ہے۔
    11.7    اکاؤنٹ کھولنے اور اکاؤنٹ کو قائم رکھنے کے لئے درکار کم سے کم ابتدائی ڈیپازٹ/ کم سے کم اوسط ط بیلنس وقتاً فوقتاً بینک کی جانب سے طے اور واضح کیا جائے گا۔ صارف ہمہ وقت ایسا کم سے کم بیلنس رکھنے پر اتفاق کرتا ہے۔
    11.8    بینک ایسے کسی بھی اکاؤنٹ بشمول، لیکن اس تک محدود نہیں، ایسے اکاؤنٹ کو بند کرنے کی کوئی بھی وجہ بتائے بغیر اسے بند کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے جو کم سے کم درکار بیلنس رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔
    11.9    بینک اپنے کنٹرول میں موجود رقوم کو کسی بھی ایسی ڈیپازٹری/ ڈیپازٹڑیز میں جمع کرواسکتا ہے جسے جو وقتاً فوقتاًاپنی واحسد صوبدید پر منتخب کرے گا۔ 
    11.10    سوائے وہاں جہاں صارف اور بینک کے درمیان اتفاق ہوچکا ہو، اکاؤنٹ/ اکاؤنٹس میں کریڈٹ کی جانے والی ہر ادائیگی اگر کسی ایسی کرنسی میں ہے جو ایسے اکاؤنٹ کی کرنسی کے علاوہ ہو، تو بینک اس کرنسی کو ایسے اکاؤنٹ/ اکاؤنٹس کو کریڈٹ کرنے سے قبل اپنی واحد صوابدید پر ایسے اکاؤنٹ/ اکاؤنٹس کی کرنسی میں اس وقت کے ایکسچینج ریٹ کے حساب سے تبدیل کرواسکے گا۔
    11.11    ایسی صورت میں حصول کے لئے جمع کروائے گئی دستاویز/دستاویزات (جیسا کہ چیکس، ڈرافٹس وغیرہ) سے حاصل ہونے والی رقوم اکاؤنٹ میں کریڈٹ کر دی جاتی ہیں اور اس کے بعد اگر کسی بھی وجہ سے ادا نہیں ہوپاتیں یا بعد ازاں بغیر ادائیگی کے واپس کر دی جایت ہیں چاہیے ان کے بارے میں پہلے ادا کرنے کا کہہ دیا گیا ہو تو ایس صورت میں صارف یہ عہد کرتا ہے کہ وہ ایسی دستاویزات کی رقم واپس/ دوبارہ بینک کے جانب سے ادا کردہ اخراجات کے ساتھ ادا کردے گا۔ صارف بینک کو یہ اختیار تفویض کرتا ہے کہ ایسی کوئی رقم اور اخراجات اس کے اکاؤنٹ/ اکاؤنٹس سے ڈیبٹ کرلے۔
    11.12    صارف جمع کرنے والے بینک کی حیثیت سے بینک کو ہونے والے کسی بھی ایسے نقصان کی تلافی کرے گا جو بینک کو صارف کی جانب سے جمع کرنے کے مقصد کے لئے پیش کئے گئے کسی چیک، بل، نوٹ، ڈرافٹ، ڈیویڈنڈ وارنٹ یا کسی دیگر دستاویزات کی توثیق کی ضمانت اور/ یا ڈسچارج کی وجہ سے اور بینک کی جانب سے ہر اس کیس میں صارف کی ظاہر کی گئی درخواست پر ایسی کوئی ضمانت دینے پر برداشت کرنا پڑا ہو۔ صارف ایسی تمام دستاویزات کے حقیقی ہونے، درست ہونے اور ان پر تحریر کی گئی تمام توثیق کی مدت کی درستگی کے بارے میں ذمہ داری قبول کرتا ہے۔
    11.13    ادا کردئیے گئے چیکس کے بارے میں بینک کی صوابدید ہوگی کہ پانچ (5) سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بینک انہیں ضائع کر دے۔
    .12    اخراجات
    12.1    اخراجات بینک کے شیڈول آف چارجز کے مطابق لاگو کئے جائیں گے۔
    12.2    بینک کے ساتھ کسی بھی لین دین سے پیدا ہونے والے یاحکومت پاکستان کو قابل ادائیگی کسی بھی اخراجات، فیس، کمیشن، سود، زکوٰۃ، ٹیکس، اسٹیمپ ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی، وغیرہ اکاؤنٹ سے ڈیبٹ کرنے کے لئے بینک کو صارف کی کسی پیشگی اجازت کی ضرورت نہ ہوگی۔
    12.3    جہاں کہیں اطلاق ہوتا ہے، زکوٰۃ تشخیصی تاریخ پر ایسے اکاؤنٹس میں سے منہا کی جائے گی جن کا بیلنس مستثنیٰ کی گئی حد سے زائد ہوگا، جیسا کہ اس مخصوص زکوٰۃ کے سال کے لئے اعلان کیا گیا ہوگا۔ زکوٰۃ سے استثنیٰ کی صورت میں، مجوزہ فارمیٹ پر زکوٰۃ استثنیٰ کا اعلان اس وقت نافذ زکوٰۃ کو قوانین کے مطابق تشخیصی تاریخ سے کم از کم ایک (1) ماہ قبل بینک میں جمع کروانا ہوگا۔
    12.4    صارف کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہمہ وقت اس پی ایل ایس یا کرنٹ اکاؤنٹ کا کم سے کم بیلنس قائم رکھے جو وقتاً فوقتاً بینک کی جانب سے طے کیا جائے گا۔اگر، کسی بھی وقت، اکاؤنٹ کا کریڈٹ بیلنس کم سے کم درکار سطح سے گر جاتا ہے تو صارف کو وقتاً فوقتاً بینک کی جانب سے طے شدہ اور چارجز کے شیڈول میں درج جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ اس جرمانے (اگر صارف کا اکاؤنٹ ایک (1) سال کے لئے زیر و بیلنس ظاہر کرتا ہے اور ساکت ہے، تو بینک کو یہ استحقاق حاصل ہوگا کہ وہ اس اکاؤنٹ کو بند کردے) کے حوالے سے بینک کو اکاؤنٹ ڈیبٹ کرنے کا استحقاق حاصل ہوگا۔
    .13    اکاؤنٹس پر آمدنی (سیونگز، ٹرم)
    13.1    نفع اور نقصان شیئرنگ اکاؤنٹ کی صورت میں، اکاؤنٹ میں رقم اور اس پر منافع ان شرائط کے مطابق ہوگا۔
    13.2    نفع اور نقصان شیئرنگ اکاؤنٹ  کے تحت کسی بھی آمدنی کا حساب لگانے کے طریقے کی نگرنی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کئے گئے موجودہ ضوابط/ہدایات کے تحت کی جاتی ہے۔
    13.3    بینک کی جانب سے نفع/نقصان کی مختص کی جانے والی کوئی بھی رقم حتمی ہویگ اور تمام صارفین کے لئے واجب التعمیل ہوگی۔ اس کے تحت دعویٰ کرنے  والے کسی بھی صارف یا کسی بھی فرد کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ ایسے  کسی نفع/نقصان طے کرنے کی بنیاد پر کوئی سوال اٹھائے۔
    13.4    جب تک کہ بصورت دیگر واضح نہ کیا گیاہو ، ڈپازٹ کی تکمیل کی تاریخ پر بینک کی قابل اطلاق شرح کی خودبخودتجدیدہو جائے گی۔تکمیل کی مدت سے ڈیپازٹ واپس لینے کا عمل بینک کی صوابدید پر ہو گااور اس کی اصل تاریخ سے یا تکمیل تجدید کی کسی بھی تاریخ سے کوئی بھی یا تمام سود یا منافع ضبط کر لیا جائے گا۔ بینک قبل از تکمیل ان کیشمنٹ کی صورت میں ختم نہ ہونے والی مدت کے لئے کوئی بھی جرمانہ اور/ یا دیگر منسلکہ لاگت کا اطلاق کرنے کا بھی حق رکھتا ہے۔
    13.5    ایسی صورت میں جب کاروباری دن کے علاوہ کسی اور دن ڈیپازٹ کی مدت مکمل ہوتی ہے، تو بینک، ڈیپازٹ اور / یا آمدنی کی آدئیگی، یا جیسی بھی صورت ہو، اگلے کاروباری دن جب کہ بینک کاروبار کے لئے کھلا ہوگا، کر دے گا۔
    13.6    ٹائم ڈیپازٹ کی جلد ان کیشمنٹ آمدنی کی کم کی گئی شرح اور دیگر اخراجات، قبل از وقت ان کیشمنٹ کے جرمانے اور ان منسلکہ اخراجات سے مشروط ہوں گے جو بینک نے وقتاً فوقتاً طے کیے ہوں گے اور ان سے صارف کو مطلع کیا گیا ہوگا۔
    .14    اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ
    14.1    بینک صارف کو درکار اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ جاری کرے گا اور صارف کو بھیجئے گا۔ صارف متعلقہ اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ جاری ہونے کے چودھ (14) دن کے اند ر اندر بینک کو کسی بھی غلطی، فرق اور/ یا خرابی کےبارے میں اطلاع دے گا، جس کے بعد اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ کو حتمی تصور کیا جائے گا۔
    14.2    اگر صارف درج بالا کے بارے میں بینک کو کوئی بھی اطلاع دینے میں ناکام رہتا ہے، تو پھر ایسے اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ کو درست تصور کیا جائے گا اور اس میں درج بیلنس کو صارف کی جانب سے تصدیق شدہ تصور کیا جائے گا اور اسے تمام مقاصد کے لیے  جامع شہادت کے طور پر لیا جائے گا۔
    14.3    مندرجات میں کسی قسم کی خرابی کی صورت میں، بینک اپنے حق کو استعمال کرتے ہوئےاس خرابی کو دور کرے گااور بعد ازاں ایسی کسی خرابی کے بارے  میں صارف کو مطلع کر دے گااور اس پر جمع ہونے والی کسی بھی مارک اپ (یا دیگر آمدن) کے ساتھ مل کر غلطی سے ادا کی گئی یا کریڈٹ کی گئی کوئی بھی رقم وصول/ ادا کرے گا۔ بینک کسی بھی ایسے نقصان کا ذمہ دار نہ ہوگا جو ایسی خرابیوں اور بعد ازاں ان کی واپسی کی وجہ سے پیدا ہوگا۔
    14.4    بینک باقاعدہ وقفوں کے ساتھ صارف کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کی روشنی میں بینک کی جانب سے تیار کردہ بیلنس سٹیٹمنٹ بھیجے گا۔ یہ بیلنس سٹیٹمنٹ بینک کی جانب سے بیان کردہ تاریخ پر اکاؤنٹ میں رکھے گئے بیلنس کی تصدیق کرنے میں مدد دے گا۔ صارف ان تمام ہدایات پر عمل کرنے سے اتفاق کرتا ہے جو بینک اس سلسلے میں جاری کرے گا، بشمول اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ جاری ہونے کے چودہ (45) دن کے اندر اندر کسی بھی فرق کے بارے میں بینک کو اطلاع دینے کی ذمہ داری، جس میں ناکامی کی صورت میں اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ کو تمام مقاصد کے لئے درست تصور کیا جائے گا۔ بینک، نقول اور / یا اضافی اکاؤنٹ سٹیٹمنٹس کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قواعد و ضوابط اور بینک کے شیڈول آف چارجز کی روشنی میں لاگت وصول کرسکتا ہے۔
    14.5    ایسے اکاؤنٹ کی صورت میں جن کے اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ بلا ترسیل واپس آجاتے ہیں، تو ایسے اکاؤنٹ کو بینک 'ٹھکانہ نامعلوم' کا درجہ دیا جائے گا۔ بینک ایسے اکاؤنٹ کے ساتھ لاگو قوانین اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں نمٹا جائے گا۔
    .15    شناخت کی تصدیق
    15.1    بینک ان افراد کو تصویری اکاؤنٹ کی سہولت پیش کرے گا جو ایسے اکاؤنٹ کو قائم رکھنے اور ان کے آپریشن کے لیے بینک کے اصولوں کو مطمئن کرتے ہیں ان میں وہ افراد شامل ہوں گے، مگر ان تک محدود نہیں ہوں گے، جو بصارت سے محروم ہیں، خواندگی اور/ یا بصورت دیگر انھیں اس لیے تصویری شناخت کی ضرورت ہے تاکہ بینک ایسی افراد کی موزوں شناخت کرنے کے قابل ہوسکے اور بینک کی KYC ضروریات کو مطمئن کرے۔ ایسے افراد کو بینک کو ایک معاوضہ بھی ادا کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے تاکہ بینک ان کے اکاؤنٹ کو چلانے کے قابل ہو سکے۔ تصویری اکاؤنٹ ہولڈرز کو قوانین، ضوابط اور وقتاً فوقتاً قابل اطلاق رہنے والی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات کے مطابق کارڈز بھی جاری کئے جا سکتے ہیں۔ فوٹو اکاؤنٹس رکھنے والے افراد کو بذاتِ خود بینک جا کر اپنے اکاؤنٹس کو آپریٹ کرنے کی ضرورت ہوگی، بشمول کوئی بھی دستاویزات اور/ یا کاغذات جو بین کے کسی بھی افسر کے سامنے تیار کئے جائیں گے۔
    .16    بینک کی جانب سے نوٹسز
    16.1    بینک کی جانب سے تمام خطو کتابت، نوٹسز یا مطالبات، سروس کو موثر کرنے کے کسی بھی دیگر موڈ سے تعصب برتے بغیر کئے جائیں گے، اور اگر صارف کو ذاتی طور پر پیش کئے جائیں یا دئیے جائیں یا ٹیلکس یا فیکس یا رجسٹرڈ ڈاک یا کورئیر کے ذریعے بھجوایا جائے گا تو بھجوانے کی تاریخ سے تین دن کے اندر اندر ترسیل کردہ اور وصول کردہ تصور کیا جائے گا۔ بشرطیکہ بینک متابدل کو طور پر یا مندرجہ بالا کے علاوہ، جیساکہ اجازت دی گئی ہے، انگریزی اور/یا اردو زبان کے اخبارات میں نوٹسز چھپواتے ہوئے انہیں نوٹس دے۔
    .17    نقصان کی تلافی اور ذمہ داری
    .17.1    بینک اکاؤنٹ کے خرابیوں سے پاک آپریشن اور صارفین کو خدمات کی فراہمی کے لئے اپنی بہترین کوششیں استعمال کرتے گا۔ اس کے باوجود، صارف یہاں اس بات پر اتفاق کرتا ہے کہ بینک کسی نقصان کی تلافی کا ذمہ دار نہ ہوگا اور اتفاق کرتا ہے کہ وہ کسی بھی یا تمام نقصانات، خرابیوں، ذمہ داریوں، ادائیگیوں اور فرائض اور ہونے والے، بھگتنے والے، جاری رہنے والے یا ادا کئے جانے والے یا بینک پر لاگو کئے جانے والے دیگر اخراجات اور درجہ بالا دوسری باتوں سے پیدا ہونے والے تمام اخراجات (بشمول بغیر کسی حد کے مناسب قانونی لاگت سمیت) کے لئے بینک اور اس کے متعلقہ ڈائریکٹرز، ملازمین اور نمائندہوں، ایجنٹوں اور ٹھیکیداروں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرائے گا:
    (i)    بینک کی جانب سے وقتاً فوقتاً صارف کی جانب سے جاری کی گئی واضح ہدایات، یا اے ٹی ایم کارڈ کے کسی غیر مجاز استعمال سمیت بینک کو  ادائیگی روکنا، ڈاک روکنا، کسی بھی دیگر ہدایات جاری کرنا اور /یا ان  پر عمل کرنا۔
    (ii)    صارف یا کسی فریق کی جانب سے رقم، منتقلی، خدمات کے ذریعے کسی بھی پروڈکٹ کی ترسیل یا عدم ترسیل یا خدمات سے متعلق کسی دیگر معاملے کے بارے میں کوئی کلیم۔
    (iii)    صارف کی جانب سے خدمات فراہم کرنے والے تیسرے فریق پر انحصار کرتے ہوئے کئے جانے والے کسی بھی لین دین میں کوئی بھی فرق،  خرابیوں یا تاخیر کے لئے کوئی کلیم۔
    (iv)    بینک کی جانب سے کوئی بھی کارروائی جس میں اس پر بھروسہ کیا گیا ہو:
    (a)    ہدایات جن کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہو کہ وہ نقل ہیں یا غلط ہیں:
    (b)    ہدایات جو مبینہ طور پر صارف نے دی ہیں، جن کے بارے میں بعد میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ دھوکہ دہی تھی:
    (v)    کوئی بھی ایسے ٹیکسز یا دیگر محصولات جو بینک نے خدمات کے ذریعے یا ان کے مطابق ادائیگیوں پر ادا کرنے تھے۔
    (vi)    کوئی بھی خرابی، غفلت یا ڈیفالٹ، عمل یا بھول چاہے وہ اس کے یا اس کے ملازمین یا کسی نمائندے، ذیلی ایجنٹ، شراکت دار بینک یا ان کے ملازمین سے ان شرائط، کسی ترمیم یا ہدایات سے ہٹ کر سرزد ہوئی ہو۔
    (vii)    کسی بھی ایسی ہدایت کی وجہ سے جس پر اس وجہ سے عمل نہ کیا گیا ہو کہ وہ بینک کے کنٹرول سے باہر ہے۔
    (viii)    کوئی بھی بالواسطہ، حادثاتی یا ضمنی نقصان یا منافع میں نقصان جو صارف کو کسی مواصلاتی یا الیکٹرانک ٹرانسمشن سہولت یا خدمات میں خلل واقع ہونے یا فیل ہونے کی وجہ سے برداشت کرنا پڑا ہو۔
    (ix)    اکاؤنٹ یا خدمات کی غیر مجاز یا دھوکہ دہی سے رسائی یا بصورت دیگر ان شرائط کے سلسلے میں یا خدمات کی فراہمی میں بینک کی ناکامی کی وجہ سے پیدا ہونے والا کوئی نقصان۔
    (x)    PIN یا چیک بک کی گم شدگی، چوری، یا کسی اور کو معلوم ہوجانا۔
    (xi)    ہدایات لاگوں کرنے میں عدم تعمیل یا تاخیر میں بینک کی ذمہ داری کسی بھی صورت میں ویلیوڈیٹیڈ کمی بیشی کی رقم سے تجاوز نہیں کرے گی، اگر یہ ناکامی یا تاخیر بینک سے منسوب کی گئی ہے۔
    (xii)    کوئی بھی بالواسطہ، حادثاتی یا ضمنی نقصان یا منافع میں نقصان جو صارف کو ٹرمینل، کسی مواصلاتی یا الیکٹرانک ٹرانسمشن یا خدمات میں خلل واقع ہونے یا فیل ہونے کی وجہ سے برداشت کرنا پڑا ہو۔
    (xiii)    صارف کی جانب سے خدمات میں سے کسی کا بھی استعمال یا آپریشن۔
    (xiv)    اسٹیٹ بینک آف پاکستان یا کسی دیگر ریگولیٹری ادارے/ اداروں کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے رقوم کی عدم دستیابی بشمول رقم نکلوانے کے لئے  درخواست/ درخواستوں پر عمل کے لئے ضرعری زرمبادلہ فروخت کرنے سے انکار یا ناکامی، رقم نکلوانے یا اس کی تبدیلی، یا لازمی منتقلی پر پابندیاں، یا لازمی منتقلی پرپابندی نافذ کئے جانے کی صورت میں یا بصورت دیگر کسی بھی انداز میں اکاؤنٹنگ کا متاثر ہونا۔ ان حالات میں، بینک کا صدر دفتر، دیگر برانچیں، ذیلی الحاق شدہ دفاتر پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی کہ وہ پاکستان میں  کسی بھی برانچوں کے ساتھ صارف کے ایسے اکاؤنٹ کے کریڈٹ میں موجود رقم ادا کریں۔
    .17.2    بینک کو کوئی نوٹس ملنے یا کسی کارروائی میں فریق بنانے کی صورت میں، کسی تیسرے فریق (سوائے جب صارف اور بینک کسی تنازعے میں برائے راست ملوث ہوں) کے کہنے پر صارف، اکاؤنٹ/ اکاؤنٹس، خدمات اور/یا لین دین کی کرروائی یا قانونی چارہ جوئی میں ملوث کرنے پر صارف بینک کی جانب سے قانونی کارروائی کے لئے خرچ کی جانے ولای یا برداشت کی جانے والی لاگت سمیت تمام لاگت اور اخراجات کے لئے بینک کو تمام زر تلافی ادا کرے گا اور بینک ایسی رقوم کو متعلقہ صارف کے کسی بھی اکاؤنٹ / اکاؤنٹس کو ڈیبٹ کرسکے گا۔
    .18    ترامیم
    18.1    بینک وقتاً فوقتاً  ان شرائط پر نظر ثانی کر سکتا ہے یا ان میں سے کسی کو تبدیل کر سکتا ہے۔ ایسی کسی تبدیلیوں سے، ترامیم کو موثر ہونے سے تین (30) دن قبل صارف کو مطلع کر دیا جائے گا۔ ایسی تبدیلیوں سے صارف کو چاہے ڈاک یا اخبار میں نوٹس یا بینک کے متعلقہ برانچ کی حدود کے اندر کسی نمایاں جگہ پر چسپاں کرتے ہوئے مطلع کرے گا۔ اگر صارف ان تبدیلیوں پر تحریری طور پر کوئی اعتراض نہیں کرتا تو انہیں منظور کردہ تصور کیا جائے گا۔ صارف کے اعتراضات بینک کو لازمی طور پر ترامیم کی اطلاع کی تاریخ سے ایک ماہ کے اندر اندر وصول ہوجانے چاہئیں اور اگر بینک اور صارف اس مسئلے کو مناسب وقت کے اندر اندر حل کرنے میں ناکام رہے ہیں، توصارف یا بینک، بینکنگ کا رشتہ ختم کرنے کے لئے آزاد ہوں گے۔
    18.2    بینک وقتاً فوقتاً خدمات کے حوالے سے عائد لاگتوں میں سے کسی پر بھی، بینک کے چارجز شیڈول کے مطابق وقتاً فوقتاً نظرثانی اور / یا ان میں تبدیلیاں کرسکتا ہے۔ ایسی تبدیلیاں اس تاریخ سے موثر ہوں گی جو ایسی ردوبدل کے لئے بینک کی جانب سے مخصوص کی جائے گی۔ ایسی تبدیلیوں سے بینک، صارف کو چاہے ڈاک یا اخبار میں نوٹس یا اس مقصد کے لئے سات (7) دن کے لئے بینک کی متعلقہ برانچ کی حدود کے اندر کسی نمایاں جگہ پر چسپاں کرتے ہوئے مطلع کرے گا یا کوئی ایسا طریقہ عمل اختیار کرے گا جو وقتاً فوقتاً اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تجویز کیا گیا ہوگا۔
    .19    ادائیگیاں روکنے کے لئے ہدایات
    19.1    بینک ادائیگی روکنے کی صرف ان ہدایات پر عمل کرے گا جن پر صارف کے دستخط ہوں گے اور جو بینک کو پہنچائی جائیں گی۔ ایسی صورت میں جب بینک کو ادائیگی روکنے کی ہدایات متعلقہ دستاویز کے کے ان کیش ہوجانے کے بعد موصول ہوتی ہیں تو بینک اس کے مطابق صارف کو مطلع کر دے گا اور ادائیگی روکنے کی متعلقہ ہدایات کے سلسلے میں اس پر مزید کوئی ذمہ داری نہ ہوگی۔ اگر متعلقہ دستایزان کیش نہیں کروائی گئی، تو ادائیگی روکنے کی ہدایات وصول ہونے کی تاریخ سے 6 ماہ کے عرصے تک موثر رہیں گی۔ وہ وقت جب بینک نے درج بالا معلومات یا ہدایات وصول کی ہیں بینک کلی طور پر خود ہی طے کرے گا اور اس کی تصدیق کرے گا اور اس طے کردہ وقت کی صارف پابندی کرے گا اور اسے حتمی تصور کیا جائے گا۔
    .20    ڈاک روکنے کی ہدایات
    .21    ساکت اکاؤنٹس

    21.1    ایسے اکاؤنٹ کی صورت میں جو ایک سال تک استعمال نہیں کیا گیا، یعنی اس عرصے کے لئے ڈیبٹ کا کوئی لین دین نہیں ہوا؛ ایسے اکاؤنٹ کو غیر فعال / ساکت مارک کردیا جائے گا۔ کسی ساکت اکاؤنٹ میں اس وقت تک کام کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک کہ صارف کی جانب سے خصوصی درخواست نہیں کی جائے گی اور اس کے ساتھ صارف کا اصل کمپیوٹرائز قومی شناختی کارڈ یا بینک کی جانب سے وقتاً فوقتاً تجویز کردہ درکار کوئی اور موزوں دستاویز/ دستاویزات پیش نہیں کردی جاتیں۔
    .22    لاوارث ڈیپازٹس اور دستاویزات
    22.1    ایسی صورت میں جب کوئی اکاؤنٹ ساکت اور لاوارث رہتا ہے اور /کوئی دستاویز دس (10) سال کے عرصے تک لاوارث رہتی ہے تو اکاؤنٹ اور / یا لاوارث دستاویز میں موجود کریڈٹ بیلنس، بینکنگ کمپنیز آرڈیننس، 1962 کی دفعہ 31 کی روشنی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کردیا جائے گا۔
    .23    متفرق
    23.1    نگران قانون ان شرائط و ضوابط  کی نگرانی  کی جائے ی اور انہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور/یا وفاقی حکومت کیا کسی دیگر مقامی اتھارٹی یا ادارے کے تمام نوٹیفکیشنز، ہدایات، سرکلرز اور ضوابط سمیت پاکستان کے اہم اور باضابطہ قوانین کے زیر اثر رکھا جائے گا، ایسے وانین کے ساتھ تعمیل کے لئے درکار حد تک ان میں ردو بدل کیا جائے گا۔
    23.2    بینک پر کوئی ذمہ داری نہیں، اس بات کی وضاحت کی جاتی ہے کہ بینک کی جانب سے ثابت کردہ انتہائی غیر ذمہ داری یا جان بوجھ کر کسی غلط روئیے کے سوا، بینک کسی بھی ہدایت پر عمل درآمد میں تاخیر یا عمل نہ کرنے پر کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔ کسی بھی صورت میں درج بالا سے تعصب کے بغیر، بینک کی زیادہ سے زیادہ ذمہ داری منافع/مارک اپ یا ویلیو ڈیٹ ردوبدل یا متعلقہ ادائیگی یا منتقلی کی ہدایات تک محدود ہوگی۔
    23.3    اکاؤنٹ کھولنے کے فارم میں درج شرائط و ضوابط کی تشریح کے سلسلے میں بینک اور صارف کے درمیان کسی تنازعے کی صورت میں، معاملہ حل کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب ریفر کیا جائے گا۔